عبادات - زکاة و صدقات

Pakistan

سوال # 2092

ہمارے لاہور میں ایک ادارہ ہے ،یہ ادارہ لوگوں کو فری قرآن پاک فراہم کرتا ہے ، جن کے پاس پیسے نہیں ہوتے ، خاص کر افریقی ممالک میں( یعنی گھانا) ، ان کے پاس قرآن بھیجے جاتے ہیں ، کیوں کہ گھانا کے کچھ مدارس سے اس ادارہ میں خط آیا ہے کہ ہمارے پاس قرآن پاک کم ہیں ، ہمیں قرآن پاک بھیج دیں ۔ ادارہ کے لوگ زکاة بھی وصول کرتے ہیں ، کیا وہ زکاة کی رقم سے قرآن خرید کر افریقی ممالک میں بھیجواسکتے ہیں؟

Published on: Nov 28, 2007

جواب # 2092

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 678/ م= 673/ م


 


زکوٰة کی ادائیگی کے لیے تملیک فقیر شرط ہے: کما في الدر المختار: مصرف الزکاة والعشر ھو فقیر۔ زکوٰة کی رقم سے قرآن پاک چھپواکر یا خرید کر مستحقین کو زکوٰة میں دیناجائز ہے۔ درمختارمیں ہے: وجاز دفع القیمة في زکاة․․․ وفي الشامیة: ثم إن المعتبر عند محمد الأنفع للفقیر من القدر والقیمة پس زکوٰة کی رقم سے قرآن مجید خرید کر افریقی ممالک کے مدارس میں بھجوایا جاسکتا ہے۔ اس شرط کے ساتھ کہ وہ مستحقین زکوٰة کو مل جائے اور یہ بھیجنے والے ادارے کی ذمہ داری ہے کہ وہ جہاں بھیج رہے ہیں وہاں کے لوگوں کے بارے میں تحقیق کرلیں کہ وہ مستحقین زکوٰة ہیں یا نہیں؟ اس لیے کہ غیرمستحق کو زکوٰة دینے سے زکوٰة ادا نہیں ہوتی۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات