عبادات - زکاة و صدقات

Pakistan

سوال # 177368

میری بیوی کے پاس ساڑھے چھ تولہ سونا اور چار تولہ چاندی ہے، وہ ہاؤس وائف(بیوی جو ملازمت نہ کرتی ہو) ہے اور اس کا کوئی ذریعہ آمدنی نہیں ہے، میں عام طورپر کسی وقت اس کو ایک ہزار سے دو ہزار روپئے دیتاہوں (ایک یا دو مہینے میں)، سوال یہ ہے کہ کیا وہ صاحب نصاب ہے؟کیا اس پر زکاة واجب ہے؟ براہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ

Published on: Mar 19, 2020

جواب # 177368

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 659-502/B=07/1441



سونے اور چاندی دونوں کی مالیت جوڑی جائے اگر وہ ساڑھے باون تولہ چاندی (۶۱۲/ گرام ۳۶۰/ ملی گرام) کی مالیت کے برابر پہونچتی ہے اور یقینا پہونچ جائے گی اس لئے وہ صاحب نصاب ہے، اس پر پوری مالیت کا چالیسواں حصہ ہر سال نکالنا واجب ہوگا۔ اس کو زکاة کا پیسہ لینا جائز نہ ہوگا۔ آپ اسے جو رقم دیں امدادی رقم دیں، زکاة کی مد کی رقم نہ دیں۔ شوہر کا اپنی بیوی کو یا بیوی کا اپنے شوہر کو زکاة دینا جائز نہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات