عبادات - زکاة و صدقات

KSA

سوال # 175498

کیا والدہ اپنی بیٹی کو صدقہ دے سکتی ہے؟اور اس صدقہ کو تمام گھر کہ افراد کے جانب سے نکالا گیا ہے اور بیٹی کا صدقہ بھی اس میں شامل ہے?
برائے مہربانی اس سوال کے لئے رہنمائی فرمائیں ۔جزاک اللہ خیر

Published on: Jan 16, 2020

جواب # 175498

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 488-368/B=05/1441



اگر مراد صدقہ نافلہ ہے تو بیٹی کو بھی صدقہ دے سکتے ہیں بلکہ اگر وہ ضرورت مند ہے تو اسے دینا زیادہ بہتر ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسکین پر صدقہ ایک صدقہ ہے (صرف صدقہ کا اجر ہے) اور رشتہ دار پر دو ہے ایک صدقہ کا اجر ، دوسرے صلہ رحمی کا اجر“ (مشکاة ، کتاب الزکاة، باب افضل الصدقة، ص: ۶۰۴، ط: المکتب الاسلامی بیروت) لیکن خود بیٹی کا صدقہ اسی کو نہ دیا جائے۔



نوٹ: اگر مراد کچھ اور ہے تو دوبارہ وضاحت کے ساتھ سوال لکھ کر ارسال کریں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات