عبادات - زکاة و صدقات

Pakistan

سوال # 174898

مفتی صاحب ! میرے اور میرے شوہر کی ایک جگہ پر ایک ایکڑ زمین ہے جس میں نصف زمین میرے مہر میں ہے۔ اس پورے زمین (ایک ایکڑ)کو ہم ?نے تین سال کے میعاد پر سالانہ ایک لاکھ روپے پراجارہ میں دی ہوئی ہے ۔ سال کے پورا ہونے پر ہمیں یک مشت رقم نہیں ملتی بلکہ دو یا تین مہینوں ?میں پوری رقم مل جاتی ہے۔ میرا شوہر ریٹائرڈ ہے اسے پنشن ملتی ہے۔ جبکہ مجھے اپنی والدہ کی طرف سے کبھی کبھی کبھار کچھ رقم جاتی ہے۔ آپ سے ?میرا یہ سوال ہے کہ ?1: اس اجارہ پر ملنے والی رقم پر زکوٰة واجب ہے یا نہیں؟ ? ?2: اگر زکوٰة واجب ہے تو مجھ پر کتنا زکوٰة واجب ہے اور میرے شوہر پر کتنا زکوٰة واجب ہے؟ ?3: اس مال کا ہم زکوٰة کیسے نکالیں اور کتنا دے دیں؟ مفتی صاحب مجھے ان سوالوں کا جواب جلدی چاہیئے۔ مہربانی کرکے جواب جلدیں ارسال فرمائیں ۔ بہت مشکور رہونگی۔ اللہ آپ سے راضی ہو۔

Published on: Dec 12, 2019

جواب # 174898

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 305-326/M=04/1441



(۱، ۲، ۳) مذکورہ زمین اگر آپ کے شوہر کو وراثةً حاصل ہوئی ہے بیچنے کی نیت سے خریدی ہوئی نہیں ہے تو اس صورت میں زمین کی مالیت پر زکاة واجب نہیں، رہی بات زمین کے کرایہ سے حاصل ہونے والی رقم کی زکاة کا مسئلہ تو اس کے بارے میں عرض ہے کہ جب آدھی زمین آپ کو شوہر نے مہر میں دیدی تو آدھی زمین کی آپ مالک ہوگئیں اور بقیہ آدھی شوہر کی ملکیت رہی۔ پس تاریخ زکاة میں کرایہ کی جتنی رقم وصول ہو وہ دونوں (میاں بیوی) پر نصف نصف تقسیم ہونے کے بعد ہر ایک کے حصے میں جتنی رقم آئے اگر وہ بقدر نصاب ہو یا دوسرے مال کے ساتھ مل کر نصاب کو پہونچ جائے تو اس کی زکاة ہر ایک پر لازم ہے، زکاة میں چالیسواں حصہ نکالا جاتا ہے، اگر مذکورہ زمین شوہر نے بیچنے کی نیت سے خریدی ہے تو وضاحت فرماکر سوال دوبارہ کر سکتے ہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات