عبادات - زکاة و صدقات

PAKISTAN

سوال # 174328

والد صاحب نصاب کے مطابق زکاة ادا نہیں کرتے تھے،بلکہ اپنے حساب سے زکاة دیتے تھے، گذشتہ مہینہ ان کا انتقال ہوگیاہے، بینک میں ان کے اکاؤنٹ میں کافی پیسے ہیں جس کو ہم اپنے درمیان تقسیم کرنا چاہتے ہیں ، سوال یہ ہے کہ اگر انہوں نے اپنے اس کاؤنٹ کی زکاة مناسب طریقے سے ادا نہیں کی ہے تو کیا ہمیں کیا کرنا چاہئے؟

Published on: Nov 13, 2019

جواب # 174328

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 274-212/B=03/1441



صورت مذکورہ میں اگر والد صاحب نے اپنی وفات سے پہلے اپنی مابقی زکاة کو ادا کرنے کی وصیت کی ہے اور مابقی زکاة کی تعیین کی ہے تو ورثہ کے ذمہ حسب وصیت مابقی زکاة کی رقم فقیروں ، محتاجوں کو دینا ضروری ہے۔ اور اگر انہوں نے اس کی وصیت نہیں کی ہے اور مابقی زکاة کی رقم متعین طور پر معلوم نہیں ہے تو پھر ورثہ کے لئے مابقی زکاة دینا ضروری نہیں، ہاں اگر سارے ورثہ بالغ ہوں اور سب بخوشی باپ کی طرف سے مابقی زکاة نکالنا چاہتے ہیں تو ایسا کرسکتے ہیں۔ یہ ورثہ کی طرف سے تبرع اور احسان ہوگا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات