عبادات - زکاة و صدقات

India

سوال # 174197

زید کی بیوی کے پاس سونے چاندی کے زیورات ہیں اور اس کی مالک وہ خود ہے تو اس مال کی زکوة وہ کیسے ادا کرے گی کیونکہ اس کے پاس زکوة ادا کرنے کے لیے پیسہ نہیں ہے، کیوں کہ زید اپنی بیوی کو پیسہ نہیں دیتا ہے اور اسے کہیں سے پیسہ آنے کی امید بھی نہیں ہے یا زید خود اپنی کے زیورات کی زکوتہ ادا کرے گا؟

Published on: Nov 3, 2019

جواب # 174197

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:149-126/N=3/1441



اگر کسی عورت کے پاس سونے، چاندی کے زیوارت ہوں اور حسب شرع اس پر زکوة واجب ہو اور وہ زکوة میں سونے، چاندی کی جگہ پیسوں کی شکل میں ان کی قیمت دیناچاہتی ہو؛ لیکن اس کے پاس پیسے نہ ہوں تو معلوم ہونا چاہیے کہ شریعت میں سونے، چاندی کی زکوةپیسوں ہی سے ادا کرنا ضروری نہیں ، بعینہ سونا یا چاندی بھی زکوة میں دیا جاسکتاہے؛ لہٰذا یہ عورت سونا، چاند ی کی واجب مقدار ہی زکوة میں کسی غریب کو دیدے یا اگر چاہے توزیورات میں سے کوئی چھوٹی موٹی چیز فروخت کردے، پھر جو پیسے ملیں، اُن سے زکوة ادا کردے، زکوة بہرحال واجب وضروری ہے، صاحب نصاب کو بہر صورت ادا کرنی ہے۔ اور اگر کسی ایسی خاتون کا شوہر ،خود اپنی مرضی وخوشی سے عورت کی اجازت سے زکوة ادا کردے تو اس میں کچھ حرج نہیں؛ البتہ زیورات کی مالک چوں کہ عورت ہے؛ لہٰذا شوہر کو اس کی مرضی کے خلاف بیوی کے زیورات کی زکوة ادا کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات