عبادات - زکاة و صدقات

India

سوال # 174154

اگر کسی عورت کے پاس سونے چاندی کے زیورات ہیں اور اس کے پاس زکاة ادا کرنے کے لیے پیسے نہیں ہیں کیونک اس کا شوہر پیسہ نہیں دیتا ہے اور اسے کہیں سے پیسے آنے کی امید بھی نہیں ہے تو وہ اس مال کی زکوتہ کیسے ادا کرے یا اس اس کا شوہر ادا کرے اور اس مال کی مالک وہ عورت خود ہے؟

Published on: Nov 6, 2019

جواب # 174154

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:144-123/N=3/1441



اگر کسی عورت کے پاس سونے، چاندی کے زیوارت ہوں اور حسب شرع اس پر زکوة واجب ہو اور وہ زکوة میں سونے، چاندی کی جگہ پیسوں کی شکل میں ان کی قیمت دیناچاہتی ہو؛ لیکن اس کے پاس پیسے نہ ہوں تو معلوم ہونا چاہیے کہ شریعت میں سونے، چاندی کی زکوةپیسوں ہی سے ادا کرنا ضروری نہیں ، بعینہ سونا، چاندی بھی زکوة میں دیا جاسکتاہے؛ لہٰذا یہ عورت سونا، چاند ی کی واجب مقدار ہی زکوة میں کسی غریب کو دیدے یا اگر چاہے توزیورات میں سے کوئی چھوٹی موٹی چیز فروخت کردے، پھر جو پیسے ملیں، ان سے زکوة ادا کردے، زکوة بہرحال واجب وضروری ہے، صاحب نصاب کو بہر صورت زکوة ادا کرنی ہے۔ اور اگر کسی ایسی خاتون کا شوہر ،خود اپنی مرضی وخوشی سے عورت کی اجازت سے زکوة ادا کردے تو اس میں کچھ حرج نہیں؛ البتہ چوں کہ زیورات کی مالک عورت ہے؛ لہٰذا شوہر کو بیوی کے زیورات کی زکوة ادا کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات