عبادات - زکاة و صدقات

India

سوال # 174075

کیا فرماتے مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے میں زید نے ایک زمین تجارت کی غرض سے خریدی، ۳ سال کے بعد وہ فرخت کر دی، اب اس زمین کی تینوں سال کی زکوة کس طرح نکالیں گے؟

Published on: Nov 12, 2019

جواب # 174075

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 213-204/B=03/1441



جس وقت آپ نے زمین فروخت کی ہے اس وقت کی قیمت کے اعتبار سے تینوں سال کی زکاة ادا کریں؛ البتہ چونکہ دین زکات مال زکات سے منہا کیا جاتا ہے؛ اس لئے پہلے سال کی زکات دوسرے سال سے منہا کی جائے گی، اسی طرح دوسرے سال کی تیسرے سال سے یعنی زمین اگر مثلاً دس لاکھ میں فروخت ہوتی ہے تو پہلے سال کی زکات ۲۵/ ہزار روپئے ہوگی، پھر دس لاکھ میں سے ۲۵/ ہزار نکال کر مابقیہ نو لاکھ پچھتر ہزار کی زکات دوسرے سال کے لئے نکالی جائے اور وہ 24375 روپئے ہوگی، اسی طرح تیسرے سال کی زکات مابقیہ رقم نو لاکھ پچاس ہزار چھ سو پچیس میں سے نکالی جائے گی۔ آپ بھی تینوں سال کی زکات اسی طرح نکالیں۔ وتعتبر القیمة یوم الوجوب وقالا: یوم الأداء ویقوم في البلد الذي المال فیہ ولو فی مفازة (درمختار) وفي المحیط یعتبر یوم الأداء بالإجماع وہو الأصحّ ۔ (ردالمحتار ، کتاب الزکاة، باب زکاة الغنم، ۳/۲۱۱، زکریا دیوبند)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات