عقائد و ایمانیات - ادیان و مذاہب

India

سوال # 175355

اس وقت میں بینک میں ایک قانون آیا ہے کہ ہم نے بینک سے اگر ایک لاکھ روپئے کیش نکالے تو 2000 روپئے بینک والے روک لیں گے جو نو مہینے کے بعد دیں گے، اب ہمارا جو بزنس ہے اس میں ہمیں روزانہ ۲۵ لاکھ ، ۳۰لاکھ روپئے روز اسی طرح نکالنے پڑتے ہیں اس حساب سے ہم نے حساب لگایا کہ جیسے روز تیس لاکھ پا پچیس لاکھ روپئے بینک سے نکالتے ہیں تو تقریباً ایک سال میں ایک کروڑ روپئے بینک ہمارے روکے گاجو نو مہینے کے بعد دے گا تو مسئلہ یہ ہے کہ مثال کے طورپر ہمارے پاس ایک کروڑ روپئے ہیں اور ہم نے سرکار کو بیس لاکھ روپئے دکھا رکھے ہیں اگر بینک ایک کروڑ روپئے روکے تو انکم ٹیکس والے پہنچیں گے کہ ایک کروڑ روپئے کہاں سے؟ اگر ہم لون لے لیتے ہیں جب انکم ٹیکس والے پہنچیں گے تو کہہ دیں گے لون لے رکھا ہے ، کیا اس صورت میں لون لے سکتے ہیں ۔ براہ کرم، جواب دیں۔

Published on: Dec 30, 2019

جواب # 175355

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:375-300/SN=5/1441



 سود پر مبنی لون لینا شرعا ناجائز اور حرام ہے، قرآن کریم اور احادیث نبویہ میں اس پر سخت وعیدیں آئی ہیں، ہاں شدید ضرورت ہو تو بہ قدر ضرورت گنجائش ہے، انکم ٹیکس چونکہ شرعی اعتبار سے ایک ناروا ٹیکس ہے ؛ اس لئے اگر کسی کی رقم انکم ٹیکس میں کٹ جاتی ہو یا یہ خطرہ ہو کہ اگر اپنا پیسہ ظاہر کرے گا تو انکم ٹیکس کے محکمہ کی زد میں آجائے گا؛ البتہ لون لینے کی صورت میں اس خطرے سے بچاؤ ممکن ہوتو پھر اس مجبوری میں لون لینے کی گنجائش ہے ؛لہذا صورت مسئولہ میں آپ غور فرمالیں ، جس پریشانی کا آپ نے سوال میں اظہار کیا ہے ، اگر اس سے بچنے کی کوئی اور مباح تدبیر نہ ہو تو مجبورا آپ کے لیے بہ قدر ضرورت لون لینے کی گنجائش ہوگی ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات