عقائد و ایمانیات - ادیان و مذاہب

India

سوال # 174971

حضرت میں گاڑی سروس کا کام کرتا ہوں، گاڑی کا سامان دلوانے کے لیے گراہک کو سامان کی دکان پر لے کر جاتا ہوں جس میں میرا وقت بھی خرچ ہوتا ہے اورگاڑی کا پیٹرول بھی جلتا ہے ،میں اس صورت میں دکان دار سے کمیشن لیتا ہوں تو کیا یہ کمیشن میرے لیے جائز ہے؟

Published on: Dec 30, 2019

جواب # 174971

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:250-219/sd=5/1441



اگر آپ گاہک کو گاڑی کا سامان دلوانے کے لیے دکان پر لے جاتے ہیں ، جس میں آپ کا وقت اور محنت خرچ ہوتی ہے اور سامان دلوانے میں آپ کسی طرح کے دجل اور دھوکہ سے کام نہیں لیتے؛ بلکہ گاہک کو اچھا سامان دلوانے میں امانت داری سے کام لیتے ہیں، تو آپ کے لیے دکاندار سے متعینہ کمیشن لینے کی گنجائش ہے ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات