India

سوال # 178243

کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام درج ذیل مسائل کے بارے میں ؛
(۱) زید اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت اور بگڑتے ہوئے حالات مہنگائی خصوصا عورت کی جسمانی کمزوری جیسے کہ حیض کے ایام میں تکلیف بہت زیادہ رہنا نیچے کے حصہ میں ورم کا آجانا خون کی کمی مستقل طور پر رہنا اور دنوں میں سفید پانی کے آنے کی وجہ سے بدن میں کمزوری کا زیادہ ہونا ان سب وجوہات کو مدنظر رکھتے ہوئے چھوٹی فیملی پلاننگ یعنی دو یا تین بچوں کے بعد مزید بچے نہیں چاہتا۔
۲ -تو کیا ان صورتوں میں بیوی کے رضاء مندی کے ساتھ عزل کرنا یا مانع حمل ادویات یا موجودہ دور میں جو چیزییں مہیا ہیں مثلاً کنڈوم گرب نرودھک گولیاں عورت کو لگنے والا انجکشن اور کوپر ٹی، وغیرہ وغیرہ استعمال کر کے مزید بچوں سے رکا جا سکتا ہے ؟
براہ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں مستقل مسئلہ کا حل تلاش کے شکریہ کا موقع فراہم کریں عین نوازش ہوگی۔

Published on: Apr 9, 2020

جواب # 178243

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 692-126T/L=08/1441



شریعت میں کثرت اولاد مطلوب ہے اور اس کو برا سمجھنا حرام بلکہ اس میں کفر کا اندیشہ ہے، پس چھوٹی فیملی کو اچھی اور بڑی فیملی کو بری سمجھ کر ضبط ولادت جائز نہیں، اسی طرح رزق کے خوف سے ضبط ولادت جائز نہیں، اور تعلیم و تربیت کی مہنگائی یا سرکاری فیسلیٹیز نہ ملنے کے خوف سے ضبط ولادت رزق کے خوف سے ضبط ولادت کی مرادف ہے۔ لہٰذا یہ بھی جائز نہیں؛ البتہ اگر بیوی کمزور ہو کہ وہ حمل کی متحمل نہیں ہو سکتی یا حمل ٹھہرنے سے اس کے نقصان کا اندیشہ ہوتو درستیٴ عقیدہ کی شرط سے وقتی طور پر ضبط ولادت کی خاطر گرب نرودھک گولیاں یا انجکشن کوپرٹی وغیرہ استعمال کرنے کی گنجائش ہوگی۔ قولہ تعالی: ((وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَکُمْ خَشْیَةَ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُہُمْ وَإِیَّاکُمْ إِنَّ قَتْلَہُمْ کَانَ خِطْئًا کَبِیرًا)) ۔ (سورة الإسراء ، رقم: الآیة: ۳۱) عن عائشة، عن جدامة بنت وہب، أخت عکاشة، قالت: حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، في أناس وہو یقول: ”لقد ہممت أن أنہی عن الغیلة، فنظرت في الروم وفارس، فإذا ہم یغیلون أولادہم، فلا یضر أولادہم ذلک شیئا“، ثم سألوہ عن العزل؟ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ”ذلک الوأد الخفي“، زاد عبید اللہ في حدیثہ: عن المقریٴ، وہي: (وإذا المووٴدة سئلت)۔ رواہ مسلم (۱۴۴۲) عن معقل بن یسار، قال: جاء رجل إلی النبي صلی اللہ علیہ وسلم، فقال: إني أصبت امرأة ذات حسب وجمال، وإنہا لا تلد، أفأتزوجہا، قال: ”لا“ ثم أتاہ الثانیة فنہاہ، ثم أتاہ الثالثة، فقال: ”تزوجوا الودود الولود فإني مکاثر بکم الأمم“ رواہ أبو داوٴد (۲۰۵۰) وقال العراقي: إسنادہ صحیح۔ (تخریج الإحیاء: ۱/۴۷۸) وفي قرارات المجمع الفقہي الإسلامي: لا یجوز تحدید النسل مطلقا، ولا یجوز منع الحمل إذا کان القصد من ذلک خشیة الإملاق، لأن اللہ تعالی ہو الرزاق ذو القوة المتین ((وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِی الْأَرْضِ إِلَّا عَلَی اللَّہِ رِزْقُہَا)) أو کان ذلک لأسباب أخری غیر معتبرة شرعا۔ أما تعاطي أسباب منع الحمل، أو تأخیرہ في حالات فردیة، لضرر محقق ککون المرأة لا تلد ولادة عادیة، وتضطر معہا إلی إجراء عملیة لإخراج الجنین - فإنہ لا مانع من ذلک شرعا۔ وہکذا إذا کان تأخیرہ لأسباب أخری شرعیة أو صحیحة یقرہا طبیب مسلم ثقة۔ بل قد یتعین منع الحمل في حالة ثبوت الضرر المحقق علی أمہ، إذا کان یخشی علی حیاتہا منہ بتقریر من یوثق بہ من الأطباء المسلمین ۔ أما الدعوة إلی تحدید النسل، أو منع الحمل بصفة عامة: فلا تجوز شرعا۔ (قرارات المجمع ، ص: ۶۲) ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات