india delhi

سوال # 178135

حضرت میرے دو سوال ہے اگر کسی عورت کو تین طلاق ہو گئی اور وہ عدت گزارے اور وہ عورت عدت کے اندر اس عورت خواہش جاگ اٹھے اور اپنا آپا کھو بیٹھے اور اپنے ہی ہاتھ سے اپنی شرمگاہ کے اندر انگلی کے ذریعہ سے انزال ہو جائے یعنی اپنے آپ کو فارغ کرلے اور اسی طرح ایک دو بار فون پر جسنے اسکو طلاق دی فون پر اس سے بات کرتے کرتے دونو ہوش کھو بیٹھے اور فون کے ذریعہ دونو کا انزال ہو جائے اور دونو فارغ ہو جائے فون کے ذریعہ ہی تو کیا ایسا کرنے سے اس عورت کی عدت ٹوٹ گئی میرا دوسرا سوال اگر کسی عورت کو تین طلاق ہوئی اورغاس عورت کو حیض بھی آتے ہو لیکن پہلے کسی بیماری کی وجہ سے اس کے ایام آنے بند ہو جائے یعنی کبھی ایک ماہ میں کبھی تین ماہ میں کبھی چار ماہ میں پہلے اسکو حیض ٹائم پر آتے تھے مگر شادی کے بعد بچہ ضائع ہونے کی وجہ اب یہ مسئلہ پیش آتا ہے اس عورت کو طلاق دئے ہوے دو ماہ گزر چکے ہیں مگر ابھی حیض نہیں آیا اور اسنے میڈیکل ٹیسٹ بھی کروایا ہے وہ حمل سے بھی نہیں ہے تو کیا تین ماہ گزرنے کے بعد اس صورت میں اس کی عدت مکمل ہو جائے گی یا اسکو حیض آنے کا انتظار کرنا پڑیگا جواب دیکر مشکور و ممنون فرمائیں۔

Published on: May 14, 2020

جواب # 178135

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:841-660/L=9/1441



(۱) عدت کے اندر یا بغیر عدت کے عورت کے لیے اپنے ہاتھ سے ایسا طریقہ اختیار کرنا کہ انزال ہوجائے جائز نہیں ؛تاہم اس کی وجہ سے عدت ٹوٹی نہیں ،عدت برقرار ہے۔



(۲)ایسی عورت کو ماہواری کے اعتبار سے تین ماہواری عدت گزارنا ضروری ہوگا ،تین ماہ کا گزرنا عدت کے مکمل ہونے کے لیے کافی نہ ہوگا ۔



إلا علی أزواجہم، أو ما ملکت أیمانہم-: تحریم ما سوی الأزواج وما ملکت الأیمان.وبین: أن الأزواج وملک الیمین: من الآدمیات دون البہائم. ثم أکدہا، فقال: (فمن ابتغی وراء ذلک: فأولئک ہم العادون) فلا یحل العمل بالذکر، إلا: فی زوجة ، أو فی ملک الیمین . ولا یحل الاستمناء. واللہ أعلم.[أحکام القرآن للشافعی - جمع البیہقی 1/ 195،الناشر : مکتبة الخانجی - القاہرة) (وہی فی) حق (حرة) ولو کتابیة تحت مسلم (تحیض لطلاق) ولو رجعیا (أو فسخ بجمیع أسبابہ) ... (ثلاث حیض کوامل) لعدم تجزی الحیضة.(الدرالمختار:3/504، الناشر: دار الفکر-بیروت)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات