india

سوال # 177920

اگر شوہر اسقاط حمل کرنے کے لئے بیوی کو مجبور کرے ۔اور نہ ماننے پر طلاق کی دھمکیاں دیں۔اور کبھی بھی اولاد کا خواہشمند نہ ہو؟ (بیوی کی مدت حمل دو ماہ۔شوہر کی ماں چاہتی ہر حال میں طلاق ہو جائے ۔ شوہر کا کہنا ہیں کہ بیوی میں اولاد کی تربیت کا مادہ ہی نہیں۔اس کا کہنا ہیں کہ بیوی میں کچھ خوبیاں ہی نہیں؟) اس صورتحال میں کیا کیا جائے ؟

Published on: May 2, 2020

جواب # 177920

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 822-620/SN=09/1441



بلا عذرِ شرعی اسقاطِ حمل شرعاً جائز نہیں ہے، اگر شوہر واقعتا اسقاط پر اصرار کرتا ہے تو یہ بہت افسوسناک ہے، شوہر کو چاہئے کہ اللہ سے ڈرے اور ایسا نہ کرے۔ واضح رہے کہ طلاق شرعاً ایک مبغوض اور ناپسندیدہ عمل ہے؛ اس لئے اقدامِ طلاق سے احتیاط چاہئے، اگر فی الواقع بیوی میں کچھ کمیاں ہیں تو مناسب طریقے پر انھیں سمجھایا جائے، ایسا کرنے سے ان شاء اللہ رفتہ رفتہ بیوی کی کمیاں دور ہو جائیں گی اور عامةً یہ دیکھا بھی گیا ہے کہ ماں بن جانے کے بعد عورتوں میں سمجھداری آہی جاتی ہے نیز بچے کی مناسب تربیت بھی کرنے لگتی ہے؛ اس لئے صورت مسئولہ میں ”طلاق“ مسئلے کا حل نہیں ہے، شوہر اور اس کی والدہ کو چاہئے یہ بات ذہن سے نکال دیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات