Pakistan

سوال # 177814

حضرات مفتیان کرام !ایک مسئلے میں آپ کی توجہ اور رہنمائی درکارہے ایک خاتون جس کو نفاس کے تیرہ دن بعد خون آیا جو کہ حیض کے ایام کے مقررہ مدت وعادت تک رہا پھر اس کے تیرہ دن بعد دوبارہ خون آیا اور اپنی عادت کے مطابق رہا اوراگلی مرتبہ پھر تیرہ دن بعد پھر سے خون آیا اور اپنی عادت کے مطابق رہا ان تیرہ تیرہ دنوں کے بیچ میں اسے کسی قسم کا خون وغیرہ نہ آیا کہ اسے مستحاضہ قرار دیا جاسکے۔اب مسئلہ یہ ہے کہ عند الاحناف اقل مدت طہر تو15دن ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ کا قول دس دن کا ہے تو کیا مذکورہ بالا عورت کو امام شافعی رحمہ اللہ کے قول کے مطابق فتویٰ دیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو پھر اس عورت کا حکم کیا ہوگا ؟

Published on: May 2, 2020

جواب # 177814

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 743-77T/B=09/1441



سوال میں شروع کا حصہ مُبہم رہ گیا۔ آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ ”ایک خاتون جس کو نفاس کے تیرہ دن بعد خون آیا“ اس سے آپ کی کیا مراد ہے؟ بچہ کی ولادت کے بعد ۱۳/ دن خون آیا یا ایام نفاس ۴۰/ دن مکمل گذرنے کے بعد ۱۳/ دن پر خون آیا۔ بچہ کی ولادت کے بعد نفاس کا خون عورت کو کتنے دن تک آیا۔ براہ مہربانی اس کی وضاحت فرمائیں تو ہمیں جواب لکھنے میں سہولت ہوگی۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات