pakistan

سوال # 177357

جب میں دو سال کا تھا تو میرے والدین الگ ہوگئے تھے، میرے والد صاحب نے ہماری کبھی دیکھ ریکھ نہیں کی اور کبھی اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی ، والدہ ایک یونیورسٹی میں نوکری کرنے لگیں اور ساتھ ساتھ ماسٹر اور پی ایچ ڈی کی پڑھائی بھی کی اور پھر لیکچرر بن گئیں ، وہ عبا اور حجاب پہنتی ہیں ،مگر نقاب نہیں پہنتی ہیں ، میں نے کہیں سنا ہے کہ اگر کوئی عورت نوکری کرتی ہو اور مرد وزن کا اختلاط ہو اور عورت نقاب نہیں پہنتی ہو تو اس کی تنخواہ حلال نہیں ہے؟ کیا یہ بات درست ہے؟

Published on: Feb 27, 2020

جواب # 177357

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:506-407/N=6/1441



شریعت میں تنخواہ کے جائز یا ناجائز ہونے کا مدار ، ملازمت کا بنیادی کام جائز یا ناجائز ہونا ہے، یعنی: اگر ملازمت کا بنیادی کام جائز ہو تو تنخواہ جائز ہوتی ہے اور اگر ملازمت کا بنیادی کام ناجائز ہو تو تنخواہ بھی ناجائز ہوتی ہے۔ اور ضمنی یا خارجی چیزوں کی وجہ سے اصل کام کی تنخواہ ناجائز نہیں ہوتی؛ لہٰذا آپ کی والدہ اگر کسی کالج یا یونیورسٹی میں لیکچرر ہوکر جائز مضامین پڑھاتی ہیں اور وقت اور نصاب کی پابندی کے ساتھ پڑھاتی ہیں تو اُن کی تنخواہ جائز ہے (فتاوی دار العلوم دیوبند، ۱۷: ۳۵۳، ۳۵۴، سوال: ۱۷۶۲، مطبوعہ: مکتبہ دار العلوم دیوبند)۔ اوردوران ملازمت وہ جو بے پردگی کرتی ہیں یا مردوں کے ساتھ اُن کا اختلاط ہوتا ہے، اِس کی وجہ سے اُن کی تنخواہ حرام نہ ہوگی؛ البتہ انھیں اِس کا گناہ ہوگا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات