INDIA

سوال # 175711

میرا نام ناہد ہے اور میں پچھلے ۵ ماہ سے حمل سے ہو ں،مجھے میری خاتون طبیب نے ایک ایسی دوا دی ہے جس کی ایک گولی صبح اور ایک گولی شام میں اندام نہانی میں اندر رکھنی ہے دوا کا نام ہے (HALD 200) اِس دوا کے استعمال کرنے کے کچھ دیر بعد اندرونی حصّے سے کچھ پانی جیسا آنے لگتا ، میرا سوال یہ ہے کہ کیا مجھے صبح شام غسل کر ہی نماز ادا کر سکتی ہوں؟ یا پھر اسی حالت میں نماز ادا کر سکتی ہوں؟ میں آپ کے جواب کی منتظر ہوں۔ شکریہ

Published on: Jan 2, 2020

جواب # 175711

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 397-320/D=05/1441



لیڈی ڈاکٹر سے تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ اس طرح کی دوا بچہ دانی کا منہ کھولنے کے لئے بھی دی جاتی ہے اور اسی کے اندر سے پانی اور کبھی خون آجاتا ہے۔ اگر یہی بات تو یہ پانی نجس ہے اس کے نکلنے سے وضو کرنا واجب ہوگا غسل واجب نہیں ہوگا لہٰذا آپ شرمگاہ کی نجاست دھوکر وضو کرکے نماز ادا کرلیں غسل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔



اور اگر پانی مسلسل آتا رہتا ہے اتنی دیر کے لئے بھی نہیں رکتا کہ آپ وضو کرکے صرف فرض نماز جلدی سے ادا کرلیں تو پھر آپ معذور شرعی ہوں گی اور ہر نماز کے وقت وضو کرکے نماز ادا کرلیں خواہ پانی آتا رہے تو بھی۔ پھر نئے وقت میں نیا وضو کریں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات