India

سوال # 175383

زید اپنی بیوی سے ہمبستری کر رہاہے اورفارغ بھی ہورہا ہے۔ اس سے اس کی بیوی بھی خوش ہے ۔اس میں اس کی بیوی کی طرف سے نہ توکوئی بحث و تکرار اور نا ہی کوئی اشکال ہے لیکن اس کی بیوی بحالت ہمبستری فارغ نہیں ہو ری ہے جس کی وجہ سے زید کو بعض دفعہ اپنی بیوی کے حقِّ زوجیت کو نہ اداء کر نے کے اندیشہ سے زید خود اپنی بیوی کی شرم گاہ کو انگلی سے سَیْلاکر فارغ کرارہاہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ کیا زید اپنی بیوی کی شرم گاہ کو ہا تھ کی انگلی سے سَیْلاکر فارغ کرواسکتاہے ؟ چونکہ ہم نے اس کے متعلق اسی آن لائن فتاوی میں یہ مسئلہ پڑھا تھا کہ عورت کو ہاتھ کی انگلی وغیرہ سے فارغ کرنا مرد کے مشت زنی کرنے کی طرح ہے اس صورت میں تو عورت گناہ گار ہوگی لیکن جب زید کی بیوی اپنی دوسری شادی شدہ سہیلیوں سے اسی مسئلہ ہمبستری کے متعلق معلومات کی تو ان کا بھی کہنا یہی تھا کہ مرد آتے ہیں اور اپنا اپنا کام نمٹاکر فارغ ہو کر چلے جاتے ہیں اس میں عورت کا حق اداء ہی نہیں ہو رہاہے اس صورت میں تو عورت کی شہوت ہی پوری نہیں ہو پا رہی ہے۔
قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔

Published on: Dec 30, 2019

جواب # 175383

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 392-290/SN=05/1441



بیوی کی شرمگاہ میں انگلی ڈال کر اسے فارغ کرانا مناسب نہیں ہے، شوہر کو چاہئے کہ بعد انزال اپنی ذکر بیوی کی شرمگاہ سے باہر نہ نکالے؛ بلکہ بیوی کو بھی فارغ ہونے کا موقع دے، ایسا کرنے سے بیوی کو بھی آسودگی حاصل ہو جائے گی، نیز شوہر ایسا بھی کر سکتا ہے کہ اولاً مباح طریقے سے بیوی کی شہوت کو برانگیختہ کرے پھر ہمبستری کا عمل شروع کرے، ایسا کرنے سے بیوی بھی جلدی فارغ ہو جائے گی۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات