India

سوال # 174945

آجکل نسبندی کے لیے عورت کی شرمگاہ کے اندر پلاسٹک جیسا ایک کٹورا جیسا رکھ کر میاں بیوی ملتے ہیں اور منی اس میں جمع رہ جاتی ہے جو کہ دھیرے دھیرے جذب کرلیتاہے، ایسی حالت میں عورت پاک ہوگی یا نہیں؟ براہ کرم، جواب دیں ۔

Published on: Dec 5, 2019

جواب # 174945

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:265-221/N=4/1441



محترم! یہ نس بندی کی شکل نہیں ہے، یعنی: سوال میں مذکور صورت میں استقرار حمل کے لیے مرد یا عورت کسی کی کوئی نس کاٹ کر وہ بند نہیں کی جاتی ہے؛ بلکہ یہ منع حمل کی ایک عارضی تدبیر ہے، جیسے: کاپرٹی میں ہوتا ہے اور جب میاں بیوی چاہیں تو کاپرٹی کی طرح اِسے بھی نکلواکر استقرار حمل کی کوشش کرسکتے ہیں؛ جب کہ نس بندی میں مستقل کے لیے استقرار حمل کی بندش ہوجاتی ہے۔ اور جائز مصلحت اور مقصد کی صورت میں منع حمل کی کوئی بھی عارضی تدبیر اختیار کرنے کی اجازت ہوتی ہے ؛ لہٰذا زوجین، جائز مصلحت ومقصد کی صورت میں عارضی منع حمل کے لیے سوال میں مذکور تدبیر اختیار کرسکتے ہیں۔



اور رہا پاکی ( غسل) کا مسئلہ تو عورت کو چاہیے کہ جب شرمگاہ سے منی نکلنے کا سلسلہ بند ہوجائے تب غسل کرے ، اور جب تک تھوڑی تھوڑی منی نکلتی رہے، غسل نہ کرے، ممکن ہے کہ وہ عورت کی منی ہو۔ اور اگر وہ یقین کے ساتھ شوہر کی منی ہواور غسل کے بعد نکلے تو صرف شرمگاہ دھولینا اور وضو کرلینا کافی ہوگا، دوبارہ غسل کرنے کی ضرورت نہ ہوگی ؛ جب کہ عورت کی منی کی صورت میں دوبارہ غسل واجب ہوگا؛لہٰذا یقین نہ ہونے کی صورت میں احتیاط اسی میں ہے کہ منی نکلنے کا سلسلہ بند ہونے کے بعد ہی غسل کیا جائے۔



فلو اغتسلت فخرج منھا مني، إن منیھا أعادت الغسل لا الصلاة وإلا لا (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الطھارة، ۱: ۲۹۶، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، قولہ: ”إن منیھا“:أي: یقیناً؛ فلو شکت فیہ فلا تعید الغسل اتفاقاً للاحتمال، والأولی الإعادة علی قولھما احتیاطاً، نوح آفندي (رد المحتار)، قولہ: ”وإلا لا“: أي: وإن لم یکن منیھا ؛ بل مني الرجل لا تعید شیئاً وعلیھا الوضوء، رملي عن التاترخانیة (المصدر السابق) ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات