India

سوال # 169411

بعض حنفی علماء اور دوسرے مکتب فکر کے عالم مثلاً بریلوی، سعودی عرب کے اہل حدیث کے علماء خواتین کو کندھے کے بعد بال کاٹنے کی اجازت دیتے ہیں، اس عمل کرنے میں کیا حرج ہے؟

Published on: May 2, 2019

جواب # 169411

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:618-646/SD=8/1440



 حدیث میں عورت کے بال کاٹنے پر لعنت آئی ہے نیز اس میں غیروں کی مشابہت بھی ہے جس کا مستقل گناہ ہے۔ فی الدر المختار: قطعت شعر رأسہا أثمت ولعنت وزاد فی البزازیة: وإن بإذن الزوج لأنہ لا طاعة لمخلوق فی معصیة الخالق (شامی: ج۹ص۵۸۳، ط زکریا دیوبند) البتہ اگر بال اتنے لمبے ہوں کہ سرین کے نیچے تک لٹک رہے ہوں اور بدنما لگتے ہوں تو ان کو کاٹنے کی گنجائش ہے۔جو لوگ خواتین کو کندھے کے بعد بال کاٹنے کو جائز کہتے ہیں، اُن کا قول صحیح نہیں ہے، ان کو ایک حدیث سے اشتباہ ہوتا ہے، اس سلسلے میں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمة اللہ علیہ کا ایک مدلل و مفصل فتوی موجود ہے، ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ (امداد الافتاوی : ۲۲۸/۴، ۲۲۹، ط: کراچی )



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات