سوال # 168972

بہنوئی کی سالی سے شوہر کی اجازت کے بغیر بلا ضرورت صاف دل سے فون پر دینی بات کرنا کیسا ہے ؟ جب کہ یہ عمل سالی اور ان کے شوہر کو سخت ناگوار ہوں، اور شوہر کے اعتراض پر موصوف کا کہنا ہے ، غلطی ہوگئی معاف کردیں) تقوی والے غصہ نہیں کرتے ، اور یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے ،(اس لئے کے ہمارے ماحول عام ہے ان کی اس بات پر لوگ تائید کرہے ہیں، اور دلیل دیتے فلاں بزرگ بھی سالیوں سے بات کرتے وغیرہ، اور شوہر کو یہ لقب ملتا ہے کہ بلا ضرورت غصہ کرنے والا اور رشتہ میں خلل ڈالنے والے ۔ برائے مہرنی مظلوم شوہر کی رہبری فرمائیں۔

Published on: Mar 13, 2019

جواب # 168972

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:592-498/sn=7/1440



 بہنوئی کے حق میں سالی غیر محرم ہے، سالی کا اس سے بے تکلف بات چیت کرنا درست نہیں ہے، اگر چہ دل کی صفائی کے ساتھ ہو؛ کیونکہ یہ بہر حال فتنے کا سبب ہو سکتا ہے، اگر سالی کو کوئی دینی چیز معلوم کرنی ہوتو وہ اپنے شوہر یا بھائی بہن وغیرہ محارم کے واسطے سے معلوم کرسکتی ہے، براہ راست بہنوئی سے گفتگو کرنے کی ضرورت نہیں۔ الغرض سالی کے شوہر کا اعتراض اور اس کا ناراض ہونا صورت مسؤولہ میں بالکل بجا ہے، سالی اور بہنوئی دونوں پر ضروری ہے کہ آئندہ بات چیت بالکلیہ ترک کردیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات