Pakistan

سوال # 177800

ہم نے اوپر کے دو کمرے مسجد کے لئے وقف کئے ہیں جبکہ مسجد کے نیچے جو کمرے ہیں اس میں ہم لوڈو کھیلتے ہیں یا گپ شپ لگاتے ہیں،کیا مسجد کے نیچے والے کمرے مسجد کے حدود میں آتے ہے کہ نہیں ؟

Published on: Mar 19, 2020

جواب # 177800

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:577-493/L=7/1441



کسی جگہ کے مسجد شرعی ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اوپر نیچے پورا حصہ بہ حق مسجد وقف ہو؛ لہٰذا اگر آپ نے صرف اوپر کے دو کمرے مسجد کے لیے وقف کیے ہیں، نیچے کا حصہ وقف نہیں کیا جیسا کہ سوال سے معلوم ہوتا ہے، تو یہ مسجد مسجد شرعی نہیں ہے، اس میں نماز پڑھنے سے مسجد کا ثواب نہ ملے گا اور نہ ہی اس جگہ پر مسجد کے احکام جاری ہوں گے؛ لہذا اس کے نیچے گپ شپ کرنا بھی منع نہ ہوگا؛ باقی لوڈو کھیلنا تو بہر حال قابل ترک ہے، خواہ آدمی کہیں بھی کھیلے۔ نوٹ: صورتِ سوال کی نوعیت کچھ اور ہو تو اس کی وضاحت کرکے دوبارہ سوال کرلیا جائے۔



(وإذا جعل تحتہ سردابا لمصالحہ) أی المسجد (جاز) کمسجد القدس (ولو جعل لغیرہا أو) جعل (فوقہ بیتا وجعل باب المسجد إلی طریق وعزلہ عن ملکہ لا) یکون مسجدا...... (قولہ: وإذا جعل تحتہ سردابا) جمعہ سرادیب، بیت یتخذ تحت الأرض لغرض تبرید الماء وغیرہ کذا فی الفتح وشرط فی المصباح أن یکون ضیقا نہر (قولہ أو جعل فوقہ بیتا إلخ) ظاہرہ أنہ لا فرق بین أن یکون البیت للمسجد أو لا إلا أنہ یؤخذ من التعلیل أن محل عدم کونہ مسجدا فیما إذا لم یکن وقفا علی مصالح المسجد وبہ صرح فی الإسعاف فقال: وإذا کان السرداب أو العلو لمصالح المسجد أو کانا وقفا علیہ صار مسجدا. اہ. شرنبلالیة.(الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 6/ 548، کتاب الوقف،ط: مکتبة زکریا، دیوبند)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات