pakistan

سوال # 176980

پانی کے بحران کی وجہ سے محلہ کے ایک ساتھی نے مسجد کو اپنی بورنگ سے پانی لینے کی اجازت دی ہے اور اس مد میں جو بجلی خرچ ہوتی ہے وہ مسجد ادا کرتی ہے اب بل زیادہ آرہا ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ مذکورہ میٹر پر پہلے کے بقایا جات موجود ہیں اب اگر مسجد بل زیادتی کے ساتھ ادا نہ کرے تو وہ صاحب پانی دینا بند کر دینگے اور اگر الگ سے مسجد پانی خریدے تو اس میں خرچہ زیادہ ہے بنسبت بل زیادتی کے ساتھ ادا کرنے کے ،،،کیا حکم ہے اب بورنگ استعمال کریں یا الگ سے انتظام کریں یہ بھی بتادیں کہ بورنگ کے مالک کا اس طرح کرنا شرعا صحیح ہے؟

Published on: Mar 5, 2020

جواب # 176980

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 796-601/H=07/1441



جس قدر پانی مسجد میں کام آیا اس پر جس قدر بجلی خرچ ہوئی اتنی مقدار رقم مسجد سے لینا تو درست ہے اس سے زائد یا سابقہ بقایاجات کو مسجد سے وصول کرنا جائز نہیں بہتر یہی ہے کہ ذمہ دارانِ مسجد پانی کا انتظام مناسب صورت میں خود ہی کریں جس کا تعلق دوسرے کسی شخص سے نہ ہو۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات