Bangladesh

سوال # 176922

سوال: ہمارے یہاں (مدرسہ میں) مسجد کے اندر جرم (جیسے نماز میں مسبوق ہونا،مدرسہ میں غیر حاضر رہنا) کی سزا کے طور پر مارتے ہیں۔یہ مارنا جائز ہوگا یا نہیں؟ براہ کرم، تفصیل سے اس پر روشنی ڈالیں۔

Published on: Feb 6, 2020

جواب # 176922

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:388-318/sd=6/1441



صورت مسئولہ میں ہاتھ سے ہلکی پھلکی مار کی گنجائش ہے بشرطیکہ بچوں کے ولی کی طرف سے صراحتا یا دلالة مارنے کی اجازت ہو اور حساس مقامات پر بھی نہ مارے۔ اور تعلیم کا نظم اگر مجبوری میں مسجد میں ہے، تو مسجد میں بھی شرعی حدود کی پابندی کرتے ہوئے تنبیہ کی جاسکتی ہے۔



قال الحصکفی: (وإن وجب ضرب ابن عشر علیہا بید لا بخشبة) لحدیث مروا أولادکم بالصلاة وہم أبناء سبع، واضربوہم علیہا وہم أبناء عشر۔ قال ابن عابدین: قولہ: بید) أی ولا یجاوز الثلاث، وکذلک المعلم لیس لہ أن یجاوزہا قال - علیہ الصلاة والسلام - لمرداس المعلم إیاک أن تضرب فوق الثلاث، فإنک إذا ضربت فوق الثلاث اقتص اللہ منک اہ إسماعیل عن أحکام الصغار للأستروشنی، وظاہرہ أنہ لا یضرب بالعصا فی غیر الصلاة أیضا.(قولہ: لا بخشبة) أی عصا، ومقتضی قولہ بید أن یراد بالخشبة ما ہو الأعم منہا ومن السوط أفادہ ط۔ ( الدر المختار مع رد المحتار: ۴/۲،۵، کتاب الصلاة، زکریا، دیوبند)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات