Indea

سوال # 176394

ایک مسئلہ درپیش ہے کہ امام صاحب کی تنخواہ 14 ہزار اہل کمیٹی کی طرف سے مقرر ہے لیکن اب وقف بورڈ کی طرف سے بھی 14 ہزار ملنے لگے ہیں تو ایسی صورت میں کیا امام کو دونوں تنخواہ لینی جائز ہوگی ایسی صورت میں کیا کیا جائے ہماے یہاں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اب مسجد کی طرف سے تنخواہ روک دی جائے بس چودہ ہزار سرکار جو دے رہی ہے وہی رہنے دیں اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ امام صاحب کا نصیب ہے پورے 28 ہزار ہی دیں اور کچھ لوگ کہتے ہیں مسجد کی تعمیر بھی نہیں ہوئی ہے ایسا کیا جائے امام صاحب کو 20 ہزار دئے جائیں اور باقی پیسے بچائیں جائیں مفتیان کرام قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں عوام میں بڑا جھگڑا فساد ہو رہا ہے ۔

Published on: Feb 1, 2020

جواب # 176394

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 522-481/M=06/1441



اس بارے میں عوام کا جھگڑا فضول ہے، صورت مسئولہ میں امام صاحب کی جو تنخواہ منجانب مسجد، مقرر ہے اُسے بحال رکھی جائے اور سرکاری و ظیفہ قبول کرنے سے احتیاط کی جائے، ہمارے اکابر نے دینی مدارس کے لئے سرکاری امداد کو پسند نہیں فرمایا۔ اس کے پیش نظر احتیاط اسی میں ہے کہ مساجد کے ائمہ کے لئے بھی لینے سے بچا جائے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات