متفرقات - تصوف

India

سوال # 176237

کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں مختلف شہروں کی مختلف مساجد میں ذکر کی مجلس منعقد ہوتی ہیں، جس میں مختلف مشائخ سے اصلاحی تعلق رکھنے والے شرکت کرتے ہیں، اسی طرح کی مجلس حضرت اقدس شیخ طریقت مولانا افتخار الحسن صاحب کاندھلوی نوراللہ مرقدہ کی جانب سے منعقد کی جاتی رہی ہیں اور اب آپ کے جانشین ان مجلسوں کا انعقاد کراتے ہیں، مجلس کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ جن حضرات کو اجازت ہے وہ ذکر جہری کرتے ہیں درود شریف اور استغفار وغیرہ کا ورد کیا جاتا ہے ، اس بات کا مکمل خیال رکھا جاتا ہے کہ نمازیوں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو، نماز کے ۲۰ منٹ بعد ذکر شروع ہوتا ہے ، ذکر کے ساتھ ساتھ کسی عالم سے ذکر کی فضیلت پر بیان کرایا جاتا ہے اور دعاء ہوتی ہے ۔ بعض حضرات اس کی مخالفت کرتے ہیں اور بدعت قرار دیتے ہیں، دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا اس قسم کی مجلس کا انعقاد درست ہے اور ہم اس مجلس میں شرکت کرسکتے ہیں یا نہیں ۔ ازراہِ کرم قرآن وحدیث کی روشنی میں تفصیلی جواب عنایت فرمائیں، بندہ آپ کا ممنون کرم ہوگا ۔

Published on: Apr 5, 2020

جواب # 176237

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 617-676/H=08/1441



حضرت اقدس شیخ طریقت مولانا افتخار الحسن صاحب کاندھلوی نور اللہ مرقدہہمارے اِس زمانہ کے اپنے ہم عصر علماء میں اہل سنت والجماعت اور محقق عالم تھے تفسیر و حدیث فقہ و فتاویٰ وغیرہ علوم دینیہ میں ان کی نظر بہت گہری تھی انہوں نے جن حضرات کو ذکر جہری کی اجازت دی یا ان کے خلفاء کرام ذکر جہری کی اجازت دیتے ہیں اور کبھی کبھار مجلس میں ایک جگہ بیٹھ کر مجلس میں موجود لوگ اپنا اپنا مقررہ ذکر جہری کر لیتے ہیں درود شریف استغفار کا وِرد کر لیا جاتا ہے اور کسی مفسدہ کا اندیشہ نہیں ہوتا تو اس کے جواز میں کچھ شبہ نہیں مدارس و مکاتب وغیرہ میں طلبہ ایک جگہ بیٹھ کر قرآن شریف یاد کرتے اور پڑھتے پڑھاتے ہیں اس کے جائز و مستحسن ہونے میں کسی کو کلام نہیں نہ ہی ان امور کو کوئی بدعت سمجھتا ہے آپ شرکت کر سکتے ہیں تاہم ذکر جہری یا اور کوئی وظیفہ دیکھا دیکھی اختیار نہ کریں بلکہ اس سلسلہ میں اپنے شیخ کامل متبع سنت کی ہدایات پر عمل کریں باقی تلاوت درود شریف استغفار کلماتِ طیبات کی کثرت جیسے امور میں کچھ مضائقہ نہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات