عقائد و ایمانیات - تقلید ائمہ ومسالک

India

سوال # 44067

میرے آفس میں ایک پارٹنر ہے ، وہ کہتاہے کہ نماز میں رفع یدین کرنا ضروری ہے یہ اللہ کے حبیب سے ثابت ہے ، حدیث میں بھی اس کا ذکر ہے، میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ نماز میں رفع یدین نہ کرنا کہاں سے ثابت ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں بتانے کی مہربانی کریں ۔

Published on: Feb 12, 2013

جواب # 44067

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 288-301/N=4/1434

احناف کے نزدیک تکبیر تحریمہ کے علاوہ نماز میں کہیں بھی رفع یدین نہیں ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ انھوں نے فرمایا: ألا أصلي بکم صلاة رسول اللہ صلی اللہ لعیہ وسلم فصلّی فلم یرفع یدیہ إلاّ في أول مرة (سنن ترمذی وغیرہ) طحاوی شریف کی روایت میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرماتے ہیں: “أنہ یرفع یدیہ في أول تکبیرة ثم لا یعودٴٴ، امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے، غیرمقلدوں کے امام: ابن حزم ظاہری نے اسے صحیح قرار دیا ہے، حافظ زیلعی نے نصب الرایہ میں حافظ ابن دقیق العید سے نقل کیا ہے کہ ابن ا لقطان نے کتاب الوہم والایہام میں اسے صحیح قرار دیا ہے، علامہ عینی نے نخب الافکار میں اس کو صحیح کہا ہے، اور علامہ احمد شاکر نے بھی مسند احمد کی تعلیق میں اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے اور دیگر اور بہت سے حضرات نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے، اور البانی نے تخریج مشکاة میں کہا ہے: والحق أنہ حدیث صحیح وإسنادہ صحیح علی شرط مسلم، ولم نجد لمن أعلّہ حجة یصلح التعلق بہا ورد الحدیث من أجلہا (۱/۲۵۴، مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ودمشق) اس کے علاوہ اور بھی عدم رفع یدین کے دلائل ہیں، اور اس مسئلہ میں بہت تفصیل ہے، فتوی میں مکمل وضاحت ممکن نہیں، اس لیے آپ تفصیلی وضاحت کے لیے حضرت مولانا مفتی محمد شعیب اللہ خان صاحب مفتاحی دامت برکاتہم العالیہ کی کتاب: دلیل نماز (ص۴۳۲- ۵۴۵) کا خوب غور وفکر کے ساتھ مطالعہ کریں، اس کے مطالعہ کے بعد اگر کوئی بات وضاحت طلب رہ جائے تو دارالافتاء سے رابطہ کریں، ان شاء اللہ تشفی بخش جواب دیا جائے گا، اور یہ کتاب آپ کو muftishuaibullah.com ویب سائٹ پر دستیاب ہے، آپ وہاں سے ڈاوٴن لوڈ کرسکتے ہیں۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات