عقائد و ایمانیات - تقلید ائمہ ومسالک

India

سوال # 172730

مولوی صاحب میں( گلف دبئی ) عرب میں ملازمت کر رہا ہوں۔مجھے پتا نہیں کہ یہ لوگ کس امام کی تقلید کرتے ہیں۔ان کے نماز کے اوقات بالکل الگ ہیں ۔ نماز مین ہر تکبیر پر رفع دین کرتے ہیں۔عقائد بھی الگ ہیں، میں امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی تقلید کرتا ہوں، کیا مین نماز ان اماموں کے پیچھے پڑھ سکتا ہوں؟اور جمعہ کی نماز کا مجھ پر کیا حکم ہے ؟ براہ کرم، تفصیل سے رہنمائی اور رہبری فرمائیں۔اور میری ترقی کے لیے دعا کریں۔

Published on: Aug 25, 2019

جواب # 172730

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1181-1048/D=12/1440



عقائد میں آپ ان سے تعرض نہ کریں، نہ ہی مباحثہ کریں، تعلیم الاسلام اور دیگر معتبر علماء کی کتابوں میں جو عقائد بیان کیے گئے ہیں آپ ان پر قائم رہیں؛ البتہ ان کے اماموں کے پیچھے نماز پڑھ سکتے اور جمعہ بھی پڑھ سکتے ہیں، ہاں اگر کبھی آپ کو پتہ چلے کہ امام ایسی بات پیش آنے کے باوجود نماز پڑھا رہا ہے جس سے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک نماز نہیں ہوتی (مثلاً خون نکلنا یا الٹی کرنا جوکہ ناقض وضو ہے یا سوتی موزوں پر مسح کرنا جس سے وضو ہی درست نہیں ہوتی) تو ایسی صورت میں آپ کہیں اور نماز پڑھیں یا اپنی پڑھ لیں۔ اللہ تعالی آپ کو دین و دنیا کی ترقی عطا فرمائے۔



فی رد المحتار: وفي حاشیة الأشباہ للخیر الرملي: الذي یمیل إلیہ خاطري: القول بعدم الکراہة إذا لم یتحقق منہ مفسد أھ ۔ وفیہ قبلہ: ثم المواضع المہمة للمراعاة أن یتوضأ من الفصد والحجامة والقيء والرعاف ونحو ذلک ، لافیما ہو سنة عندہ مکروہ عندنا کرفع الیدین الخ (۲/۳۰۳، ط: زکریا ، باب الإمامة) ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات