عقائد و ایمانیات - تقلید ائمہ ومسالک

Saudi arabia

سوال # 171512

میں ایک حنفی مقلد ہوں اور مکہ مکرمہ میں مقیم ہوں،چناچہ رمضان میں وتر حنابلہ کے مسلک کے مطابق یعنی دو رکعت کے بعد سلام پھر ایک رکعت پڑھانی پڑھتی ہے تو کیا میں حنبلی مسلک کے مطابق وتر پڑھا سکتا ہوں؟ نیز اگر میں مذکورہ طریقہ وتر کسی حنبلی امام کے اقتداء میں پڑھ لوں تو کیا اعادہ ضروری ہوگا؟یا نہیں جواب مرحمت فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں ۔

Published on: Sep 7, 2019

جواب # 171512

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1313-1261/L=01/1441



حنفی مسلک میں وتر ایک سلام سے پڑھنا ضروری ہے، اگر کوئی شخص دو سلام سے وتر ادا کرے تو دورانِ نماز منافی صلاة عمل (سلام) کے پائے جانے کی وجہ سے نماز فاسد ہو جائے گی؛ لہٰذا اگر کوئی امام دو سلام سے وتر پڑھائے تو اس کی اقتداء میں حنفی مقتدی کے لئے نماز ادا کرنا اصل مذہب کے اعتبار سے درست نہیں؛ البتہ حنفیہ میں ابن وہبان اور امام ابو بکرجصاص رازی رحمہ اللہ وغیرہ کے نزدیک حنفی مقتدی شافعی یا حنبلی امام کی اقتداء میں وتر ادا کر سکتا ہے کہ جب امام دوسری رکعت پر سلام پھیرے اس وقت حنفی مقتدی سلام میں امام کی اقتداء نہ کرے؛ بلکہ یونہی بیٹھا رہے اور جب امام تیسری رکعت کے لئے کھڑا ہو تو یہ بھی اس کے ساتھ شامل ِ جماعت ہو جائے، جہاں سخت مجبوری ہو جیسا کہ بسااوقات حرمین شریفین میں اس کی نوبت آجاتی ہے تو ایسے مواقع میں اس طور پر امام کی اقتداء کرلینے کی بعض علماء نے گنجائش دی ہے؛ لیکن ہر جگہ اس کا حکم نہیں، اگر کسی نے ایسے امام کی اقتداء میں نماز ادا کرلی ہے جو دو سلام سے نماز پڑھاتے ہے تو اس میں تفصیل یہ ہے کہ اگر اس نے دوسری رکعت پرسلام نہیں پھیرا تھا تو بعض علماء کے قول پر اعادہ کاحکم نہ ہوگا؛ البتہ اگر اس نے دو رکعت پرسلام پھیر دیا تھا تو اس پر ضروری ہوگا کہ وہ وتر کا اعادہ کرے۔ اور بہرحال امام بن کر اس طرح وتر کی نماز پڑھانا درست نہیں، اس سے بچنا ضروری ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات