عقائد و ایمانیات - تقلید ائمہ ومسالک

Germany

سوال # 168062

کیا کسی شخص جو کہ حنفی ہو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ کسی دوسری حدیث یا دوسرے امام کے مسلہ پر عمل کرے یا کروائے جبکہ وہ نا ہی عالم اور نا ہی مفتی ہے ؟

Published on: Mar 7, 2019

جواب # 168062

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:473-467/N=6/1440



عامی شخص کے لیے کلی یاجزوی طور پر مسلک بدلنا درست نہیں ، اسے اپنے امام ہی کے مسلک پر یا ان کی تشریح کے مطابق ہی قرآن وسنت پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اور اگر کوئی شخص با صلاحیت عالم دین یا مفتی ہو اور دلائل شرع پر گہری نظر اور بصیرت تامہ بھی رکھتا ہو، وہ اگر دلائل کی روشنی میں کسی دوسرے امام کے مسلک کو راجح وقوی سمجھتا ہے تو اس کے لیے مسلک بدلنا جائز ہے۔



قولہ: ”ارتحل إلی مذہب الشافعی یعزر“ أی: إذا کان ارتحالہ لا لغرض محمود شرعاً لما فی التاترخانیة: حکي أن رجلاً من أصحاب أبي حنیفة خطب إلی رجل من أصحاب الحدیث ابنتہ في عھد أبي بکر الجوزجاني فأبی إلا أن یترک مذھبہ فیقرأ خلف الإمام ویرفع یدیہ عند الانحطاط ونحو ذلک فأجابہ فزوجہ فقال الشیخ بعد ما سئل عن ھذا وأطرق رأسہ: النکاح جائز ولکن أخاف أن یذھب إیمانہ وقت النزع؛ لأنہ استخف بمذھبہ الذي ھو حق عندہ وترہ لأجل جیفة منتنة ، ولو أن رجلا بریٴ من مذہبہ باجتہاد وضح لہ کان محمودا مأجورا، أما انتقال غیرہ من غیر دلیل بل لما یرغب من عرض الدنیا وشہوتہا فہو المذموم الآثم المستوجب للتأدیب والتعزیر لارتکابہ المنکر فی الدین واستخفافہ بدینہ ومذہبہ اہ ملخصاً (رد المحتار،کتاب الحدود، باب التعزیر، ۶: ۱۳۲، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، فی القنیة رامزا لبعض کتب المذہب: لیس للعامي أن یتحول من مذہب إلی مذہب، ویستوی فیہ الحنفی والشافعی (المصدر السابق، ص ۱۳۳)، وانظر الدر والرد (کتاب الشہادات، باب القبول وعدمہ ۸: ۲۰۰) أیضاً۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات