عقائد و ایمانیات - تقلید ائمہ ومسالک

India

سوال # 167591

fatwa id:307-428/L=5/1438 مذکورہ فتوی کہ بارے اور بھی وضاحت ہم چاہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ نے بھول کر پانچ رکعت نماز پڑھی آپ کا جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ مذکورہ حدیث احناف کے خلاف نہیں ہے اس لئے کہ اس حدیث میں یہ نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے قعدہ اخیرہ کیا تھا یا نہیں حدیث اس سے ساکت ہے لیکن اس کے بارے میں ایک روایت ہے فنقص فی الرابعة و لم یجلس حتی صلی اللہ الخامسة اس کی وضاحت اور صحیح توجیہات ارسال کریں۔

Published on: Jan 24, 2019

جواب # 167591

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:446-44T/L5/1440



نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سہوا ً ظہر یا عصر کی نماز پانچ رکعت پڑھانے کے سلسلے میں جو روایات منقول ہیں ان روایات کے متعلق احناف کا مسلک یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چوتھی رکعت پر قعدہ اخیرہ کیا تھا ۔



قلت الحدیث لایدل علی أن من صلی خمساً ساہیا ولم یجلس فی الرابعة لاتفسد صلاتہ ؛فإن الحدیث ساکت علی جلوس النبی صلی اللہ علیہ وسلم بعد الرابعة ولم یذکر حکمہ ،فعدم الذکر لایدل علی عدم الفساد بل حمل فعل النبی صلی اللہ علیہ وسلم علی ماہو أقرب إلی الصواب أولی ...وتأویل الحدیث أنہ علیہ السلام کان قعد قدرالتشہد فی الرابعة بدلیل قول الراوی :صلی الظہر خمساً والظہر إسم لجمیع أرکان الصلاة ومنہا القعدة ،وإنما قام إلی الخامسة علی ظن أنہا الثالثة حملاً لفعلہ علیہ السلام علی ماہو أقرب إلی الصواب .(بذل المجہود ،کتاب الصلاة باب إذصلی خمساً ۴/۶۲۹-۶۳۰)



سوال میں جس روایت کا تذکرہ ہے ”فنقص فی الرابعة ولم یجلس حتی صلی الخامسة“ اس کی اصل روایت ”المعجم الکبیر“ میں اس طرح ہے : حدثنا جعفر بن محمد الفریابی، ثنا أبو الأصبغ عبد العزیز بن یحیی الحرانی، ثنا محمد بن سلمة، عن أبی عبد الرحیم، عن زید بن أبی أنیسة، عن طلحة بن مصرف، عن إبراہیم،عن علقمة، عن عبد اللہ قال:صلی بنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم العصر، فنہض فی الرابعة ولم یجلس، حتی صلی بنا الخامسة، فقیل: یا رسول اللہ، صلیت بنا خمسا، فاستقبل القبلة وکبر وسجد سجدتین.( المعجم الکبیر للطبرانی: ۱۰/۳۴،رقم :۵۸۳۶ط: مکتبہ ابن تیمیہ)



اگر چہ اس روایت میں عدمِ قعود کا صراحتاً ذکر ہے ؛لیکن اس روایت سے احناف کے خلاف استدلال کرنا صحیح نہ ہوگا ،اس کی چند وجوہات ہیں جو درج ذیل ہیں :



مذکورہ روایت میں اضطراب ہے بایں طور کہ صحیحین اور دیگرکتبِ احادیث کی روایات میں نمازِ ظہر کا تذکرہ ہے جبکہ طلحہ بن مصرف کی روایت میں نمازِ عصر کا تذکرہ ہے :



قولہ: (صلی النبی) ہذہ الصلاة قیل: الظہر، وقیل: العصر. وروی الطبرانی من حدیث طلحة بن مصرف عن إبراہیم بہ: أنہا العصر، فنقص فی الرابعة ولم یجلس حتی صلی الخامسة. ومن حدیث شعبة عن حماد عن إبراہیم أنہا الظہر وأنہ صلاہا خمسا.(عمدة القاری ،کتاب الصلاة،باب التوجہ نحو القبلة ۴/۲۰۴ط:دارالکتب العلمیة بیروت)



نیز راوی ابراہیم جو مدارِ اسناد ہیں انھوں نے روایت کے اندر اپنا شک ظاہر کیا ہے کہ سجدہ سہوکا سبب زیادتی ہے یا نقصان؟اس روایت میں نہ ظہر کا تذکرہ ہے ،نہ عصر کااور نہ ہی قعدہ اخیرہ کا ذکر ہے: والمقصود أن إبراہیم شک فی سبب سجود السہو المذکور ہل کان لأجل الزیادة أوالنقصان ؟(عمدة القاری، کتاب الصلاة،باب التوجہ نحوالقبلة ۴/۲۰۵ط:دارالکتب العلمیہ بیروت)



(۲)طلحہ بن مصرف کی روایت میں ”ولم یجلس“کی زیادتی کی گئی ہے جبکہ مذکورہ روایت کے علاوہ دوسری روایات جہاں طلحہ بن مصرف کا واسطہ نہیں آیا ہے ان میں یہ زیادتی منقول نہیں بلکہ احادیث اس بات سے ساکت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قعدہ اخیرہ کیا تھا یا نہیں؛لہذا طلحہ بن مصرف اپنی روایت میں اس زیادتی کے ساتھ متفرد ہیں ؛ان وجوہات کی بناپر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قعدہ اخیرہ پر نہ بیٹھنا متیقن نہیں ؛بلکہ محتمل ہے ؛لہذا ایک محتمل چیز کے ذریعہ احناف پر اشکال کرنا صحیح نہ ہوگا ۔ المحتمل لایکون حجةً ملزمةً (المبسوط للسرخسی:۱۶/۱۱۲)



علاوہ ازیں اگر یہ مان لیا جائے کہ یہ روایت صحیح ہے تو اس کا یہ جواب ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام کے لیے نہیں بیٹھے بلکہ قعدہ اخیرہ کرکے پانچویں رکعت کے لیے کھڑے ہوگئے تھے ۔



قال الراقم :ویرد علی ہذالتأویل لفظ الطبرانی ذکرہ فی العمدة (۲/۳۱۱):”فنقص فی الرابعة ولم یجلس حتی صلی الخامسة “قال شیخنا رحمہ اللہ فی ”تعلیقاتہ علی آثارالسنن “:ویمکن أن یکون المراد بلفظ الطبرانی:”نقص“أی غیر ،ولم یجلس للسلام ،وفی تغییر الہیاة قد یقال النقص وإن زاد فہو کثرة قلة انتہی بلفظہ (معارف السنن: ۳/۴۹۴)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات