عقائد و ایمانیات - تقلید ائمہ ومسالک

pakistan

سوال # 146511

(۱) آپ سے یہ معلوم کرنا ہے کہ سورہ فاتحہ کا امام کے پیچھے نہ پڑھنے کی تفصیل کیا ہے؟ برائے مہربانی تفصیل سے بتائیں۔
(۲) میں جس دفتر میں کام کرتا ہوں اس میں جب صبح سب آتے ہیں تو میں سب سے اٹھ کے گلے مل کر مصافحہ کرتا ہوں چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا، کیا میرا ایسا کرنا شرعاً صحیح ہے؟ بتائیں۔
کسی نے مجھے منع کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے سے منع فرمایا تھا۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔

Published on: Dec 27, 2018

جواب # 146511

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 220-030/D=2/1438



 



(۱) فاتحہ پڑھنے نہ پڑھنے کے بارے میں مفصل فتوی، ساتھ ہی میں منسلک کیا جارہا ہے۔



(۲) مومن بھائی سے ملاقات کے وقت مصافحہ کرنا اجرو ثواب کا کام ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصافحہ کرنے پر گناہوں کے بکثرت جھڑنے کی بشارت بھی سنائی ہے، البتہ معانقہ (گلے ملنا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے کسی کو رخصت کرتے وقت، یا سفر سے واپسی پر یا بہت دنوں کے بعد ملاقات ہونے پر ثابت ہے۔



اور اگر سلام کئے بغیر اس کی جگہ پر مصافحہ و معانقہ کیا جائے تو یہ مکروہ ہے۔ قال النبي صلی اللہ علیہ وسلم: إن المومن إذا لقی المومن فسلم علیہ وأخذ علیہ بیدہ فصافحہ تناثرت خطایاہما کما یتناثر ورق الشجرة، رواہ الطبرانی والبیہقی ․․․․اعلم أن المصافحة مستحبة عند کل لقاء (شامی: ۹/۵۴۷)



فأما المأذون فیہ فعند التودیع وعند القدوم من السفر وطول العہد بالصاحب (شرح السنة: ۱۲/۲۹۳) وإذا جاء أحدہم من سفر عانق صاحبہ (شرح النووی: ۸/۲۰۸) التقبیل والاعتناق قد یکونان علی وجہ التحیة کالسلام والمصافحة، وہما اللذان نہی عنہما فی الحدیث (اعلاء السنن: ۱۷/۴۲۳)



پس آپ کا دفتر میں روزانہ چھوٹے بڑے سے اٹھ کر معانقہ کرنا احادیث و صحابہ کے عمل سے ثابت معانقہ کی تفصیل کے خلاف ہے، اور اگر آپ سلام کی جگہ پر معانقہ کرتے ہوں تو ایسا کرنا مکروہ ہے، رہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا معانقہ سے منع فرمانا جیسا کہ اس حدیث میں ہے۔ أنہ علیہ الصلاة والسلاة نہی عن المکامعة، وہی المعانقة الخ تو اس سے مراد بصراحت فقہاء و محدثین وہ معانقہ ہے جو مِن غیر ازار یعنی جسم پر کپڑوں کے بغیر ہو یا جنسی جذبات کے تحت ہو۔



-------------------------------



حنفی مقتدی کے لیے امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنا کیسا ہے؟ کیا اس سے نماز فاسد ہوجائے گی ؟



سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں :



کیا امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھی جائے گی؟امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا اس سلسلے میں کیا مذہب ہے؟براہِ کرم قرآن وحدیث سے حوالہ دیں ۔ہمارے یہاں ایک عالم ہیں، وہ لوگوں میں اس بات کی تشہیر کررہے ہیں کہ جو امام کے پیچھے فاتحہ نہیں پڑھے گا اس کی نماز نہیں ہوگی، ہم ان کو کیا جواب دیں، آپ ہماری رہنمائی فرمائیں۔ المستفتی :صفوان احمد (۱۳۵۶/د ۱۴۳۲ئھ)



الجواب وباللہ التوفیق:



امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک مقتدی کو امام کے پیچھے سری جہری کسی بھی نماز میں قرأت کر نا مکروہ تحریمی ہے ،در مختار میں ہے: والموٴتم لا یقرأ مطلقا ولا الفاتحة في السریة اتفاقا، فإن قرأ کرہ تحریما(الدر مع الرد:۲/۲۶۶،کتاب الصّلاة، باب صفة الصلاة) حنفیہ کا یہ مسلک قرآن وحدیث وآثار صحابہ سے موٴید اور ثابت ہے ، جن کی روشنی میں ہی حنفیہ امام کے پیچھے قراء ت کے قائل نہیں ،وہ دلائل درج ذیل ہیں:



ارشاد باری ہے :وَاِذَا قُرِئ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَہُ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ (اعراف:۲۰۴)، ترجمہ:جب قرآن پڑھاجائے تو اس کو غور سے سنو اور خاموش رہو؛ تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ مفسرین کے نزدیک یہ آیت نماز کے متعلق آئی ہے (یعنی جب نماز میں قرآن پڑھاجائے تو اس وقت خاموشی اختیار کرنے کا حکم ہے )، تفسیر کبیرمیں امام رازی رحمہ اللہ نے اور روح المعانی میں علامہ آلوسی رحمہ اللہ نے اس کی تصریح فرمائی ہے، وہ لکھتے ہیں: الآیة نزلت في ترک الجہر بالقراء ة وراء الإمام․․․․․․․․․․․وہو قول أبي حنیفة (مفاتیح الغیب للرازی :۱۵/۸۳، بیروت)، عن مجاہد قال: قرأ رجل من الأنصار خلف رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم فی الصلاة، فنزلت وإذا قریٴ القراٰن الآیة۔ (روح المعاني :۹/۱۵۰، ط :امدادیہ ملتان)۔



اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ، ابو ہریرہ ، ابن عباس،عبداللہ بن مغفل رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین میں سعید بن جبیر ،ابن رباح،امام نخعی،امام شعبی ،حسن بصری،امام زہری ،مجاہد اور قتادہ علیہم الرحمة سے یہی منقول ہے کہ اس آیت کا نزول، نماز یا خطبہ کے متعلق ہواہے حتی کہ اس بات پر اجماع نقل کیا گیا ہے کہ یہ آیت نماز ہی کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ قال في التنسیق: أنہم أجمعوا واتفقوا علی أنہا نزلت في القراء ة خلف الإمام وأخرج البیہقي عن الإمام أحمد قال:أجمع الناس علی أن ہذہ الآیة في الصلاة (أوجزالمسالک : ۱/۲۴۶، افتتاح الصلاة، باب القراء ة خلف الامام، ط:یحیویہ سہارنپور) سورہ ٴاعراف کی مذکورہ آیت میں مقتدیوں کو اپنے امام کے پیچھے قراء ت کرنے سے منع فرمایا گیا ہے، اب ذیل میں وہ احادیث وآثار پیش کیے جاتے ہیں، جن میں مقتدیوں کو قرآن پڑھنے سے ممانعت وارد ہوئی ہے اور ان کو خاموش رہنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔مسلم شریف کی روایت ہے:



(۱) قال النّبي صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم :إذا صلیتم فأقیموا صفوفکم ، ثم لیوٴمکم أحدکم فإذا کبر فکبروا، فإذا قال:غیر المغضوب علیہم ولا الضالین ،فقولوا: آمین… وعن قتادة وإذا قرأ فأنصتوا(مسلم:رقم:404، دار إحیاء التراث العربي)، ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے، جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اپنی صفوں کو درست کرلو،پھر تم میں سے کوئی امامت کرے ،جب امام تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ ”غیر المغضوب علیہم ولا الضّالین“کہے تو تم آمین کہو اور قتادہ سے یہ زیادتی بھی مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب (امام )قرأت کرے تو تم خاموش رہو ۔



(۲) عن أبي ہریرة أن رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم قال:إنما جعل الإمام لیوٴتم بہ، فإذا کبر، فکبروا وإذا قرأ فأنصتوا۔(ابن ماجة:رقم:۸۴۶، دارالفکر) ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ tسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:بلاشبہ امام بنایا گیاہے؛ تاکہ اس کی اقتداء کی جائے ،جب وہ تکبیر کہے توتم بھی تکبیر کہو اور جب وہ قرأت کرے تو تم خاموش رہو۔



(۳) عن جابر قال:قال رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم : من کان لہ إمام فقراء ة الإمام لہ قراء ة(موطأ الإمام محمد:رقم: ۱۲۵، دار إحیاء التراث العربي) ترجمہ: حضرت جابر tسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس شخص کے لیے امام ہو تو امام کی قراء ت اس کے لیے کافی ہوگی (یعنی اس کو علیٰحدہ سے قراء ت کرنے کی ضرورت نہیں )۔



(۴) عن أبي موسیٰ قال: علمنا رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم :إذا قمتم إلی الصلاة فلیوٴمکم أحدکم ،وإذا قرأ الإمام فأنصتوا(مسند احمد رقم:۱۹۲۸۴، دارإحیاء التراث العربي) ترجمہ: حضرت ابو موسیٰ اشعری tکہتے ہیں کہ ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا ہے کہ جب تم نماز کے لیے کھڑے ہوجاؤ تو تم میں سے کوئی نماز پڑھائے اور جب امام قرأت کرے تو تم خاموش رہو ۔



ان احادیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ امام کے پیچھے مقتدیوں کو قرأت نہیں کرنی ہے؛بلکہ خاموش رہنا ہے ،نیز ان حدیثوں میں جہری وسری نمازوں کا کوئی فرق بھی مذکور نہیں؛اس لیے یہ حکم سب نمازوں میں مقتدیوں کے لیے یکسا ں ہوگا ۔اب چند آثارِ صحابہ نقل کیے جاتے ہیں :



خلفائے راشدین امام کے پیچھے قرأت سے منع کرتے تھے :



قال (عبدالرحمن بن زید):أخبرني أشیاخنا أن علیا رضي اللّٰہ عنہ قال:من قرأ خلف الإمام فلا صلاة لہ، قال:وأخبرني موسٰی بن عقبة: أن رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم وأبو بکر وعمر وعثمان کانوا ینہون عن القراء ة خلف الإمام(مصنف عبدالرزاق: رقم:۲۸۱۰، المکتب الإسلامي، بیروت) ترجمہ: عبد الرحمن بن زید کہتے ہیں کہ : ہمارے مشائخ نے خبر دی ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا:جو شخص امام کے پیچھے قرأت کرے اس کی نمازہی نہیں،اور موسیٰ بن عقبہ نے مجھے خبر دی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ،ابو بکر،عمروعثمان رضوان اللہ علیہم اجمعین، امام کے پیچھے قرأت کرنے سے منع کرتے تھے۔



 وکان عبد اللّٰہ بن عمر لا یقرأ خلف الإمام(موطأ الإمام محمد:۹۹) ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمرامام کے پیچھے قرأت نہیں کرتے تھے ،امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ستر بدری صحابہ کو پایا ہے اور یہ سب کے سب مقتدی کو امام کے پیچھے قرأت کرنے سے منع فرماتے تھے، أدرکت سبعین بدریا کلہم یمنعون المقتدي عن القراء ة خلف الإمام(روح المعانی:۹/۱۵۲)



خلفائے راشدین،ستر بدری صحابہ کے افعال اور ان کے علاوہ، دیگر صحابہ کرام کے آثارسے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مقتدیوں کو امام کے پیچھے قرأت کرنا منع ہے ،جو حضرات امام کے پیچھے سورہ فاتحہ کی قرأت کو ضروری کہتے ہیں، ان کی سب سے اہم دلیل حضرت عبادہ بن صامت tکی وہ حدیث ہے، جو محمد بن اسحاق نے روایت کی ہے ، عن عبادة بن الصامت قال:کنا خلف النّبي صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم في صلاة الفجر، فقرأ، فثقلت علیہ القراء ة ،فلما فرغ قال:لعلکم تقروٴون خلف إمامکم ، قلنا :نعم! یا رسول اللّٰہ ! قال:لا تفعلوا إلا بفاتحة الکتاب، فإنہ لا صلاة لمن لم یقرأبہا(أبوداوٴد:رقم:۸۲۳، دارالفکر) ترجمہ: حضرت عبادہ بن صامتسے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے فجر کی نماز پڑھ رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرأت کی تو آپ کو قرأت میں دشواری ہوگئی ،جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا :شاید تم اپنے امام کے پیچھے قرأت کرتے ہو، ہم نے جواب دیا: جی ہاں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کیا کرو، سوائے سورہ فاتحہ کے؛ کیوں کہ جس نے اس کو نہیں پڑھا اس کی نماز نہیں؛لیکن یہ حدیث سنداً ومتناً مضطرب ہے؛اس لیے اس سے مذکورہ مسئلہ پر استدلال کرنا صحیح نہیں، معارف السنن میں علامہ بنوری رحمہ اللہ نے سند میں اضطراب کی آٹھ وجوہات اور متن میں اضطراب کی تیرہ وجوہات نقل کی ہیں : فہذہ ثمانیة وجوہ من اضطرابہ في الإسناد رفعاً ووقفا وانقطاعا واتصالا(معار ف السنن:۳/۲۰۳، ط:دار الکتاب دیوبند) وأمااضطراب متنہ فہو کذلک علی وجوہ … ثم قال :فہذہ ثلاثة عشر لفظا فی حدیث عبادہ(معارف السنن: ۳/۲۰۵) اسی وجہ سے امام احمد اور امام ابن تیمیہ اور دیگر ائمہ حدیث نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے ، وہذا الحدیث معلل عند أئمة الحدیث بأمور کثیرة ضعفہ أحمد وغیرہ من الأئمة الخ(فتاوی ابن تیمیہ:۲۳/۲۸۶) وقال النیموي:حدیث عبادة بن الصامت في التباس القراء ة قد روی بوجوہ کلّہا ضعیفة۔(آثارالسّنن:۱/۷۹)(۱)



مذکورہ بالا آیات قرآنیہ،احادیث مبارکہ ،خلفائے راشدین اور ستر بدری صحابہ کے عمل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ مقتدیوں کو امام کے پیچھے قرأت نہیں کرنی ہے؛ بلکہ خاموشی سے کھڑے رہنے کا حکم ہے ، موجودہ دور کے غیر مقلدین، امام کے پیچھے قرأت نہ کرنے کی وجہ سے احناف پر جو لعن طعن کرتے ہیں اور ان کی نمازوں کو قرآن وحدیث کے خلاف بتلاتے ہیں، وہ سراسر غلط اور گمراہ کن ہے، الحمد للہ احناف کا مذہب قرآن وحدیث سے ثابت ومبرہن ہے ۔فقط واللہ تعالیٰ اعلم



کتبہ الاحقرزین الاسلام قاسمی# الٰہ آبادی نائب مفتی  ۲۵/۷/۳۲ھ       



الجواب صحیح: حبیب الرحمن عفا اللہ عنہ، فخر الاسلام ، وقار علی غفر لہ



 



حواشی



------------------------------------------------------



(۱) امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ”حسن“ کہا ہے، اور امام ترمذی کا ”حسن“ حسن لذاتہسے فروتر ہے، معمولی ضعیف حدیث کو بھی امام ترمذی رحمہ اللہ ”حسن کہہ دیتے ہیں، قال أبو عیسٰی: وما ذکرنا في ہذا الکتاب ”حدیث حسن“فإنّما أردنا حسن إسنادہ عندنا،کلّ حدیث یُروی لایکون في إسنادہ من یُتَّہَمُ بالکذب ولایکون الحدیث شاذًا ویُروٰی من غیر وجہٍ نحو ذٰلک فہو عندنا حدیث حسن۔ (ترمذی: کتاب العلل: ۲/۲۴۰)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات