معاشرت - طلاق و خلع

Malaysia

سوال # 175710

علماء دین و مفتیان شرع متین ! ہمارے ہاں ایک بندے نے اپنی بیوی کو واٹس ایپ پر کچھ آڈیو کلپ بھیجا اور ان سے کہا کہ اگر تم نے میرے یہ کلپ کسی کو سنایا تو تمہیں تین طلاق ہے، چنانچہ بیوی نے کسی کو بھی نہیں سنایا لیکن اس کی ایک بہن نے اس کی قریب آکر سن لی اور اس کو معلوم بھی تھا کہ اس کی بہن سن رہی ہے لیکن انہوں نے منع نہیں کیا اور ان کا کہنا ہے کہ اپنی بہن کو سنانے کا ارادہ نہیں تھا لیکن جس جگہ پر وہ وائس سن رہی تھی وہ جگہ تنگ ہونے کے وجہ سے وہاں سے نہیں ہٹ سکی ۔ اب اس صورت میں طلاق واقع ہوگی یا نہیں ؟برائے مہربانی جواب سے عنایت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں (نوٹ) میاں بیوی دونوں ملائشیا میں مقیم ہیں، اور ان کے دو بچے بھی ہیں، لہذا، وہ اپنے کئے ہوئے میں نادم ہوکر دونوں شرعی زندگی گذارنا چاہتے ہیں ۔ شکریہ

Published on: Jan 15, 2020

جواب # 175710

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:371-300/N=5/1441



صورت مسئولہ میں اگر عورت خود آڈیو کلپ سن رہی تھی اور اس کی بہن قریب آگئی اور اس نے بھی سن لیا اور عورت نے اُسے سنانے کا ارادہ نہیں کیا تھا اور نہ ہی اس کے لیے کوئی مستقل عمل کیا تھا تو اُس پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی؛ کیوں کہ ِاس صورت میں سنانا نہیں پایا گیا؛ البتہ عورت کو چاہیے کہ وہ آڈیو کلپس ڈلیٹ کردے ؛ تاکہ کسی دوسرے کو سنانے کا امکان ہی نہ رہے ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات