معاشرت - طلاق و خلع

India

سوال # 175257

میں نے ایک مسئلہ پوچھنا ہے ۔میرا ابھی نکاح نہیں ہو ا۔لیکن میں نے ابھی سے طلاق کے مسائل پڑھنے شروع کر دیا تھے ۔لیکن اسی دوران میں نے ایک ایسے مسئلہ پڑھ جس میں نکاح سے پہلے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے ۔ طلاق کو نکاح سے مشروط کرنے سے۔ مفتی صاحب میں اس مسئلہ کی وجہ وسوسوں اور وہمِ میں مبتلا ہو چکا ہو ۔ایک دن صبح کے وقت مجھے وسوسہ آیا ۔جس کی وجہ سے میں وہمِ کا شکار ہو گیا ۔پھر میں نے ایک اسلامی بیان سنا جس میں مفتی صاحب نے فرمایا ۔جس چیز میں شک اسے چھوڑ دو ۔ پھر ظہر کے وقت میں وضو کرنے گیا ۔ تو میں نے یہ الفاظ زبان سے ادا کیا ۔۔ مجھے تو100 فیصد یقین ہے ۔اس کے بعد مجھے وسوسہ آیا کہ میں نے دی ہے ۔پھر میں وضو کر رہا تھا ۔تو پھر میں نے یہ الفاظ زبان سے ادا کیے ۔۔مجھے تو 100فیصد یقین ہے کہ میں نے نہیں دی۔پھر کچھ دیر بعد مجھے ۔یہ جو وسوسہ آیا کہ میں نے دی ہے ۔اس کی وجہ سے مجھے وہم ہو نے لگ گیا کہ کہیں اس کی وجہ سے جھوٹا اقرار تو نہیں ہو گیا ۔اس وہم کی وجہ سے پھر میں نے دل میں سوچنا کہ مفتی صاحب پوچھے گے ۔آپ نے دی ہے ۔تو ایک دی ۔دو دی۔تین دی۔یہ خیال میں نے صرف وہم کی وجہ سے سوچا تھا ۔ پھر خیال کی وجہ میں اور وسوسوں و وہم کا شکار ہو گیا تھا ۔پھر میں نے یہ ساری بات اپنے دوست کو بتلائیں۔لیکن آخر جب میں دوست کو بتارہا تھا ۔تو آخر جملے بدل کر بتا دیا تھا ۔وہ جملہ یہ تھا ۔اگر مفتی صاحب پوچھے گے آپ نے دی ہے ۔تو میرا دوست بولا کہ آپ نے دی ہی نہیں ۔پھر میں نے کہا ہاں میرے پاس تو جواب ہی نہیں ہے کیوں کہ میں نے دی ہی نہیں ہے ۔ پھر اگلے دن مجھے دوست کو بات بتانے پر وہم ہو گیا ۔کہیں بات کرنے سے تو جھوٹا اقرار ہو گیا ۔اس وہم کی وجہ میں اور سوچنے لگ گیا ۔اسی سوچنے کے دوران ۔میں ایک جملہ سوچ رہا تھا ۔مفتی صاحب پوچھے گے کہ آپ نے دی ہے اگرآپ کہتے ہو ہاں دی ہے ۔ پھر مفتی صاحب پوچھے گے۔ایک دی۔دو دی۔تین دی ۔ اس جملہ کو سوچتے ہو ے ۔ہاں لفظ ۔میری زبان سے نکل گیا تھا ۔اس ہاں لفظ کی وجہ سے میں اور وہم کا شکار ہوگیا ۔کہیں اس سے جھوٹا اقرار تو نہیں ہوگیا ۔ پھر اگلے دن مفتی تقی صاحب کی پہلے تفسیر سن تھی ۔اس میں انہوں بتایا کہ لوگ آتے ہیں لوگوں کو طلاق وہم ھوجاتا اور کہتے کہ بیوی ہم حرام ہو گئی ۔پھر میں نے بھی اپنے آپ سے میرا بھی یہی حساب ہے مجھے بھی وہمِ ہو گیا کہ میں نے بھی دی ہے۔نہ میری نیت ہے اور نہ میں نے کبھی سوچا ہے۔اور نہ میں نے کبھی دی ہے۔

Published on: Jan 2, 2020

جواب # 175257

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 326-322/D=05/1441



جو باتیں آپ نے لکھی ہیں یہ سب توہمات کے قبیل سے ہیں لاحول الخ پڑھ کر ذہن کو ادھر سے ہٹا لیا کریں جب آپ کا ابھی نکاح نہیں ہوا اور آپ کی بیوی نہیں ہے توطلاق کیسے پڑے گی۔ نکاح سے پہلے طلاق واقع ہونے کا کیا مطلب آپ سمجھے؟ اور طلاق کو نکاح سے مشروط کرنے کا کیا مطلب آپ سمجھے؟ کسی عالم مفتی کے پاس جاکر اسے اچھی طرح سمجھ لیجئے۔ بہر حال جو باتیں آپ نے لکھی ہیں یہ سب وہم کے قسم کی باتیں ہیں ان سے شادی ہوجانے کے بعد بھی طلاق نہیں پڑتی۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات