معاشرت - طلاق و خلع

Pakistan

سوال # 175160

خلع یافتہ پھوپھی نے اپنی تمام جائیدا اپنے لے پالک بھتیجے کے نام ھبہ کر دی ہے اور اس جائیداد میں صرف وہ دونوں ہی رہائش پذیر ہیں۔ کیا یہ عمل درست ہے اور پھوپھی نے سب کو بتا رکھا ہے کہ ان کے بعد ان کی جائیداد کا کوئی اور سوائے لے پالک بھتیجے کے حقدار نہ ہو گا۔ مزید براں ان کی اپنی کوئی اولاد نہ ہے البتہ والد گرامی ، بھائی اور بہنیں ہیں۔ برائے کرم رہنمائی کر دیں۔

Published on: Dec 25, 2019

جواب # 175160

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:285-217/sd=4/1441



اگر لے پالک بھتیجہ بالغ ہے اور پھوپی نے اس کو اپنی جائداد ہبہ کرکے مالک و قابض بھی بنادیا ہے اور پھوپی خود دست بردار ہوگئی ہے، تو لے پالک بھتیجہ جائداد کا شرعا مالک ہوگا، لیکن سوال سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پھوپی نے لے پالک بھتیجے کو قبضہ نہیں دیا ؛ بلکہ جائداد اپھوپی کے تصرف میں باقی ہے، ایسی صورت میں یہ ہبہ شرعا معتبر نہیں ہوگا، ہبہ کے لیے قبضہ دینا شرط ہے۔ واضح رہنا چاہیے کہ ورثاء کو بالکل محروم کرکے اس طرح زندگی میں ساری جائداد کسی غیر وارث کو ہبہ کرنا صحیح نہیں ہے اور اگر نقصان پہنچانے کے قصد سے ایسا کیا ، تو احادث میں اس پر سخت وعید آئی ہے ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات