معاشرت - طلاق و خلع

pakistan

سوال # 174486

میرا دوسرا سوال ہے کہ ایک بار میں ایک جگہ جا رہا تھا مجھ کو پتہ نہیں چلا کہ میں میرے زبان سے طلاق کے الفاظ نکلے کہ نہیں اس وقت میں موٹرسائیل پر تھا نہ میں اتنے رفتار میں تھا کہ میں اپنے آواز نہیں سن سکتا تھا بلکہ میں اپنے کانوں سے ماشاء اللہ بالکل ٹھیک ہوں میں ہر قسم کی آواز آسانی سے سن سکتا ہوں کوئی مسلہ نہیں ہے میرا مجھ کو وسوسہ ہوا کہ میں اپنے بیوی کو طلاق دی جناب میں فالج بمار بندہ ہو ہر چھوٹی بات میں میرا لئے مصبت بناتا ہے جس وقت میں جا رہا تھا میں اس وقت بھی ایک وسوسے میں تھا وہ بھی طلاق کے وسوسے میں اب میں کیا کروں کس سے جا کہوں میرے زبان سے الفاظ نکلے ہے کہ نہیں ہر وقت پریشان سوچ میں پڑا ہوں ایک میں میری بیوی غصہ میں تھی میں خاموشی سے ان کی بات سن رہا تھا تو میرے دل میں طلاق دے رہا تھا میں نے دل کی بات زبان نہ لینے کے لئے اللہ اکبر کہا تو اب تک میں پریشان ہوں میرا کوئی ارادہ نہیں ہے اللہ کے لئے میرے مدد کردیں اپنے علم سے شکریہ

Published on: Nov 13, 2019

جواب # 174486

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 300-282/H=03/1441



صورتِ مسئولہ میں جب آپ کو زبان سے طلاق دینے یا طلاق کے الفاظ کہنے کا یقین نہیں ہے، بلکہ صرف طلاق کا وسوسہ ہے یا صرف آپ نے دل میں طلاق دینے کا ارادہ کیا تھا تو اس سے آپ کی بیوی پر کسی طلاق کا حکم نہیں لگے گا۔ وقال اللیث: الوسوسة حدیث النفسی، وإنما قیل: موسوس؛ لأنہ یحدث بما فی ضمیرہ، وعن اللیث لایجوز طلاق الموسوس، قال یعنی: المغلوب فی عقلہ ، وعن الحاکم: ہو المصاب في عقلہ إذا تکلم یتکلم بغیر نظام (شامي: ۶/۳۵۹، ط: زکریا دیوبند)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات