معاشرت - طلاق و خلع

Bangladesh

سوال # 166150

(۱) مفتی صاحب طلاق کلما کے بارے بندہ کو وسوسہ آتا ہوں ۔ ایک مرتبہ میں نے زبان سے کھا میں ایسا تو نہیں کھا ( ایسا تو نہیں کھا ان لفظوں کو زبان سے یقینا ادا کیا) اور جو نکاح کرو اسے اور جو نکاح کرو اسکو دل دل ادا کیا یا منہ سے تلفظ کیا ۔ ان دونوں میں شک ھے ۔ پھر یہ بھی شک ھے کہ دونوں کیساتھ لفظ طلاق دل دل بولا ھے یا منہ سے بولا ۔ اگر واقعتا میں زبان سے میں ایسا تو نہیں کھا کیساتھ جو نکاح کرو اسے طلاق اور جو نکاح کرو اس نکاح کو طلاق بول دے ۔ کیا اس صورت حکایت نکاح میں پڑتا ہے ۔ میری تو طلاق دینے کی کوی قصد اور ارادہ نہیں ۔ ۔ طلاق دینے کلے تو ارادہ اور قصد کی ضرورت ہے ۔ اپ حضرت کے پاس توضیح مقصود ھے ۔۔۔
(۲) نوٹ ۔ آپ حضرات کیپاس مسلہ ارسال کرنے سے پہلے میں مذکورہ سوال ایک پیپر ( قرطاس) میں نوٹ کیا ۔ نوٹ کرنے کے وقت بھی یعنی لکھنے کے وقت طلاق کی نیت آگیا ۔ اور ویب ساٹ میں لکھنے کے وقت بھی طلاق کلما کے الفاظ لکھنے کے وقت طلاق کی نیت آگیا۔ اس صورت میں میں نے لکھا ۔ میں تو طلاق دینا نہیں چھتا ۔ ۔ غیر اختیاری کے طور پر نیت آتا ہے ۔ اب شک ہے کہ یہ نیت اختیاری تھا یا غیر اختیاری ۔ ۔ کیا ایسے نیت شرعیت میں معتبر ہے ۔
(۳) مفتی صاحب سے سوال یہ ھے ۔ میری طرف سے ایک مرتبہ یوں الفاظ ادا ہو گیا میں جو نکاح کرو اسے اور میں جو نکاح کرو اسکو ان دونوں جملوں کیساتھ لفظ طلاق بولاھے یا نہیں ۔ اس میں شک ہے ۔ ذہن کو زور دینے سے نہ بولنے کی پہلو ترجیح حاصل کر لیتا ہے ۔ لکن شک سے خالی نہیں لفظ طلاق بولا ہے یا نہیں ۔ أگر بولنے کی پہلو صحیح ھو جائے اور نہ بولنے کی پہلو غلط ہوں ۔ تو شادی سے مواخذہ ہو جاوں گا ۔ کیا مواخذہ سے بچنے کے لیے اور دل کو اطمینان دینے کے لیے تجدید نکاح یاتو فضولی نکاح کی ضرورت ہے ۔

Published on: Dec 23, 2018

جواب # 166150

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 121-33T/SN=04/1440



(۱) آپ قریب کے کسی معتبر دارالافتاء میں جاکر اپنا یہ قصہ بیان کریں، وہاں کے مفتیان براہ راست گفتگو کرکے جو حکم بیان کریں اس کے مطالق عمل درآمد کریں۔



(۲) دل میں محض خیال آنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک کہ آدمی اپنے اختیار سے قصد نہ کرے؛ اس لئے غیر اختیاری نیت یعنی خیال سے تعلیق منعقد نہ ہوگی، اسی طرح اگر اختیاری اور غیر اختیاری میں شک ہو کوئی پہلو راجح نہ ہو جیسا کہ صورت مسئولہ میں ہے تب بھی یہی حکم ہے یعنی تعلیق منعقد نہ ہوگی؛ لہٰذا آپ پریشان نہ ہوں، شک پر مشتمل اس طرح کی نیت شرعاً معتبر نہیں ہے۔ علم أنہ حلف ولم یدر بطلاق أو غیرہ لغا کما لوشک أطلق أم لا الخ (درمختار مع الشامی: ۴/۵۰۸، ط: زکریا) ۔



(۳) جب لفظ ”طلاق“ نہ بولنے کا پہلو راجح ہے تو چونکہ محض اس جملہ سے تعلیق منعقد نہ ہوگی بہ شرطے کہ آپ نے ”طلاق“ کی نیت نہ کی ہو؛ اس لئے مزید سوچنے اور اس میں شق پیدا کرنے کی ضرورت نہیں، آپ اس کی طرف دھیان نہ دیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات