معاشرت - طلاق و خلع

India

سوال # 165980

میں ایک خاتون ہون اورد انت کی ڈاکٹر ہوں، اور میرے شوہر بھی دانت کے ڈاکٹر ہیں، میں 2015ء میں اپنے شوہر سے علیحدہ ہوگئی تھی اور میں اپنے والدین کے گھر رہتی ہوں، میں طلاق لینا نہیں چاہتی ہوں اور نہ ہی اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں، انہوں نے کسی مفتی صاحب سے فتوی لیا ہے کہ ؛”چونکہ تمہاری بیوی تم سے ایک سال سے زیادہ عرصہ سے الگ ہے، اس لیے تمہارا نکاح ختم ہوگیا، تمہارے درمیان کوئی رشتہ باقی نہیں ہے“، تو کیا یہ فتوی درست ہے؟ دوسری بات یہ ہے کہ میں خود کام کرتی ہوں اور کماتی ہوں اور اپنے دونوں بچوں کی دیکھ ریکھ کرسکتی ہوں تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر بیوی کمارہی ہو یا اچھے گھرانے کی ہو تو شوہر کو اپنی بیوی اور بچوں کو خرچ دینے کی ضرورت نہیں ہے؟کیوں کہ یہی حوالہ دے کر وہ مجھے ایک بھی پیسہ نہیں دیتے ہیں، شریعت اس بارے میں کیا کہتی ہے؟ میں جو کماتی ہوں اس پر کس کا حق ہے؟ جزاک اللہ خیرا

Published on: Oct 23, 2018

جواب # 165980

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:167-103/L=2/1440



محض شوہر سے علیحدہ رہنے کی وجہ سے بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوتی جب تک شوہر طلاق نہ دیدے یا خلع نہ کرلے یا شرعی پنچایت شرعی وجوہ کی بناپر نکاح کو فسخ نہ کردے اگر آپ کے ساتھ ان میں سے کوئی بات پیش نہیں آئی ہے توآپ دونوں کا نکاح برقرار ہے محض علیحدہ رہنے سے طلاق واقع نہیں ہوئی ،جہاں تك بیوی کے نفقہ کا مسئلہ ہے تو اگر بیوی شوہر کے پاس رہے تو اس کا نفقہ شوہر پر لازم ہوگا ؛البتہ اگر ازخود بیوی شوہر کے پاس نہ رہے تو اب اس کا نفقہ شوہر پر لازم نہ ہوگا ،اور نابالغ بچوں کا نفقہ تو بہرصورت والد پر لازم ہوگا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات