معاشرت - طلاق و خلع

Maharashtra

سوال # 165952

میرا نام شکیل سید ہے, میں ممبئی کا رہنے والا ہوں پر اب ۱۰/ سال سے پونے میں رہتا ہو ں۔ ۲۰۱۵ء سے میری اہلیہ اپنے ماں باپ کے گھر چلی گئی آپس کے جھگڑے کی وجہ سے۔ میں نے کئی بار اس کے ماں باپ سے ملنا چاہا اس کو واپس لانے کے لئے پر اس کے ماں باپ کچھ سننا ہی نہیں چاہتے تھے۔ اور مجھ پر مقدمے اور پولیس سے شکایت کرتے رہے پھر بھی میں نے کچھ نہیں کہا، سب سہتا رہا، اور صبر کرتا رہا۔ اس سے میرا ایک بیٹا بھی ہے جو ۱۰/ سال کا ہے، اب ایک سال سے میرے ساتھ ہی رہتا ہے، مجھے میرے بچے سے بھی ملنے نہیں دیتے تھے وہ لوگ پر میں نے اللہ تعالی سے امید نہیں چھوڑی بس مانگتا رہا اور اللہ سبحانہ وتعالی نے بچے کے دل کو بدل دئیے، اب بچہ میرے ساتھ رہتا ہے۔ اور میں نے اب تک کوئی نکاح نہیں کیا، میں ابھی بھی اپنی اہلیہ کو واپس لانا چاہتا ہوں اور میں اسے طلاق نہیں دینا چاہتا ہوں۔ اس نے طلاق کے لئے مقدمہ کیا مجھ پر اور میں نے اس کو واپس لانے کے لئے مقدمہ کیا ہے فیملی کورٹ میں ہمارا مقدمہ چل رہا ہے۔ میں نے اپنی زبان پر آج تک طلاق کا نام نہیں لیا نہ اپنی اہلیہ کے سامنے اور نہ اس کے گھر والوں کے سامنے پر کچھ دنوں سے میری ساس کہہ رہی ہیں کہ تیرا نکاح ویسے بھی ٹوٹ گیا ہے، تم لوگ تین سال سے الگ ہو اس لئے اور وہ مجھے بہت پریشان کر رہے ہیں۔ ایک سال پہلے ہم میاں بیوی کی ہمبستری (سیکس) ایک بار ہو چکی ہے۔ ایک سال پہلے وہ ہر ہفتہ میرے گھر پر آتی تھی اور مجھ سے کہتی بھی تھی کہ مجھے تھوڑا وقت دو میں آجاوٴں گی پر اب صرف فون پر اور میسج سے اور کورٹ میں ملاقات ہوتی ہے مجھے فتوی چاہئے کہ ہم تین سال سے الگ ہیں تو کیا میرا نکاح ٹوٹ گیا یا نہیں؟

Published on: Nov 3, 2018

جواب # 165952

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1228-159/L=2/1440



جب تک شوہر طلاق نہ دیدے یا خلع کا معاملہ نہ کرلے یا شرعی پنچایت کے ذریعے نکاح فسخ نہ ہوجائے محض علیحدہ رہنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی؛ اس لیے اگر آپ نے طلاق یا خلع کا معاملہ نہیں کیا ہے اور نہ ہی فسخِ نکاح کی صورت پیش آئی ہے توآپ دونوں کا نکاح برقرار ہے ،محض تین سال الگ رہنے کی وجہ سے بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوئی۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات