معاشرت - طلاق و خلع

India

سوال # 165781

میری شادی ہوئے ۱۶مہینے ہوچکے ہیں اور میں اپنے ہی میکے میں تین مہینے اپنے شوہر کے ساتھ رہی ، کیوں کہ میری ساس میرے شوہر کو میرے ساتھ سونے نہیں دیتی ہیں اور میرے شوہر بھی صرف انہی کی بات مانتے ہیں ( تعویذ کی وجہ سے)، میں حمل سے تھی اور طلاق لینا چاہتی تھی، اس نے میرے وضع حمل کا انتظار کیا ، ہمارا لڑا ہواہے ، میرے شوہر میرے پاس واپس آگئے ، اب ہمارا لڑکا آٹھ مہینے کا ہے، اور ابھی دومہینے سے میں اپنے والدین کے ساتھ رہتی ہوں، میرے شوہر نے مجھے بتایا کہ وہ مجھے طلاق دینا چاہتاہے، مگر وہ نہ مجھے طلاق دیتے ہیں اور نہ ہی میرے ساتھ رہتے ہیں ، کیوں کہ ان کی ماں ایسا کرنے نہیں دیتی ہیں، اگر ہمیں طلاق ہوجائے تو مجھے اور میرے بچے کو پریشانی ہوگی؟ براہ کرم، کوئی دعا بتائیں کہ میری ساس اور میرے شوہر کا دل صاف ہوجائے۔

Published on: Oct 23, 2018

جواب # 165781

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 137-13T/M=2/1440



ناگزیر صورت حال کے بغیر شوہر کو نہ طلاق دینی چاہئے اور نہ بیوی کو اس کا مطالبہ کرنا چاہئے جہاں تک ممکن ہوسکے رشتہٴ نکاح کو نباہنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ صورت مسئولہ میں آپ شوہر سے ملیں، ان کے پاس جائیں اور ان کی زوجیت میں رہتے ہوئے ان کے حقوق کی ادائیگی کا پورا خیال رکھیں، اور نمازوں کی پابندی کریں اور اللہ تعالی سے خصوصی دعا کا اہتمام کریں کہ میاں بیوی میں محبت پیدا ہوجائے اور صبح و شام یَا لَطِیْف اور یَا وَدُوْدُ کا وظیفہ سو سو (۱۰۰-۱۰۰) مرتبہ پڑھ لیا کریں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات