معاشرت - طلاق و خلع

India

سوال # 155923

حضرت مفتی صاحب، اگر کوئی شخص بیوی کے علاوہ کسی دوسرے شخص کے سامنے اقرار کرے کہ اس نے دل میں تین مرتبہ بول دیا ہے ۔ مراد پولنے سے عموما طلاق ہی ہوتی ہے ، تو کیا بیوی بائنہ ہو گئی، کیونکہ اس نے کنایہ کے الفاظ استعمال کئے ؟ یا اس کو ایک طلاق رجعی ہو گئی کیونکہ طلاق تو اس نے دل میں دی اور خیال تو دل میں تھا، لیکن دوسرے کے سامنے اظہار کرنے سے ایک طلاق رجعی ہو گئی؟ یا پھر کیوں کہ اس نے دو سرے کے سامنے دل میں تین بار کہنے کا اقرار کر لیا تو اقرار کی وجہ سے تین طلاقیں ہو گئیں اور بیوی مغلظہ ہو گئی؟
حضرت ،اگر ایسی صورت میں شوہر مانے نہیں کہ اس نے صرف ڈرانے اور دھمکی دینے کے لئے یہ الفاظ کہے تو کیا طلاق نہیں ہوگی؟ کیا طلاق کے وقوع کے لیے جس شخص کے سامنے شوہر نے یہ الفاظ کہے ان کی گواہی لینی ہو گی، کتنے گواہوں کا ہونا شرط ہے ۔ رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ احسن الجزاء

Published on: Nov 2, 2017

جواب # 155923

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:70-67/sd=2/1439



دل ہی دل میں سوچنے یا بولنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی، لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص نے اگر کسی دوسرے کے سامنے دل میں طلاق دینے کا اقرار کیا ہے ، تو اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی، نہ ر جعی اور نہ بائن ۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَةَ یَرْفَعُہُ قَالَ إِنَّ اللَّہَ تَجَاوَزَ لأُمَّتِی عَمَّا وَسْوَسَتْ أَوْ حَدَّثَتْ بِہِ أَنْفُسَہَا مَا لَمْ تَعْمَلْ بِہِ أَوْ تَکَلَّمْ ۔( البخاری )



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات