معاشرت - طلاق و خلع

India

سوال # 155694

سوال: رشید کی بیوی بہت نیک وصالح ہے مگر کبھی کبھی فطرت زنانہ کے سبب کسی چھوٹی سی با ت پرانتہائی غصہ ہوکر ضد پر آجاتی ہے اوراس سے تیز لب ولہجے میں یا چلا کرجھگڑنے لگتی ہے جس سے پیارا ا ورپرسکون گھریلو ماحول خراب ہوجاتا ہے ۔رشید اس بات کو پسند نہیں کر تا اور بیوی کوکئی بارسمجھاتا ہے کہ اپنا معاملہ بتائے کہ بات کیا ہے وہ اس کو حل کرے گا مگر اس طرح کا برتاؤ اچھا نہیں کہ جب تک وہ اپنی بیوی کو چیخ چیخ کر نہ ڈاٹے بیوی اپنی ضد نہ چھوڑے کیونکہ وہ بیوی سے مار پیٹ کو انتہائی برا خیال کرتا ہے اور اسے اس کو چیخ کر ڈانٹا بھی پسند نہیں جس کو کئی مرتبہ وہ اپنی بیوی سے بتا بھی چکا ہے مگر وہ نہیں مانی۔ ایک دن غصے میں آکررشید نے یہ کہہ دیا کہ" اگر آج کے بعد اس طرح ہوا تو تمھارے اوپر ایک طلاق" جس وقت اس نے یہ بات کہی اس کے دل میں یہ ارادہ تھا کہ میری بیوی اس طرح کا برتاؤ اگر پھر کبھی کرے جس سے اسے اس کو چیخ کر ڈانٹنا پڑے توہی طلاق ہوگی یعنیٰ ایسی ضد کرے جس میں اسے چیخنا پڑے یا وہ اس اسے چیخ چلا کر بات کرے جس کے جواب میں اسے بھی چیخنا پڑے تب وہ خاموش ہو۔ کیا اس صورت میں 1. بیوی اگر بغیر چیخے چلائے یابغیر تیز آواز کے نوک جھونک کرتی ہے تو کیاطلاق ہوجائے گی؟
2. کیا شوہر وبیوی کی معمول کی لڑائی جوشوروشرابے (یعنیٰ چیخنے چلانے کے زمرے میں نہ آتی ہو) سے مبرا ہو واقع ہونے پر طلاق ہو جائے گی؟
3. بیوی کے چیخ چلا کر بات کرنے پر طلاق ہوجائے گی؟
4. بیوی کی باتیں اشتعال انگیز ہوجانے پر رشید کے جواب میں چیخ کر ڈانٹنے پر طلاق ہوجائے گی؟
5. اگر طلاق ہو گئی تو رجوع کا کیا طریقہ ہوگا۔
6. طلاق واقع نہ ہو اس کے لئے کیا تدابیر اختیار کی جائیں رہنمائی فرمائیں توبڑی مہربانی ہوگی۔

Published on: Dec 14, 2017

جواب # 155694

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:144-261/L=3/1439



(۱،۶)صورتِ مسئولہ میں اگر اس جملہ سے زید کی نیت یہ تھی کہ اگر بیوی چیخے چلائے جس کی وجہ سے اس کو ڈانٹنا پڑے تو خاص اسی صورت میں بیوی پر طلاق واقع ہوگی اور ایک طلاق واقع ہوگی جس میں تاوقتِ عدت بیوی کو رجعت کا اختیار حاصل ہوگا،اس کے علاوہ کی صورت میں طلاق واقع نہ ہوگی،اور رجعت کی صورت یہ ہوگی کہ شوہر یہ کہدے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجعت کرلی ہے رجعت ہوجائے گی،اس کے لیے کسی حیلے کی ضرورت نہیں،بس جب طلاق ہو جائے تو شوہر رجعت کرلے ایک بار طلاق ہوجانے کے بعد اگر دوبارہ یہی صورت پیش آئے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہوگی۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات