معاشرت - طلاق و خلع

INDIA

سوال # 155668

میں مصروف علی اپنی بیوی عذرا بانو کو ۵/۳/۲۰۱۷ء کو طلاق دیدی، حالت نہ سدھرنے پر ۹/۴/۲۰۱۷ء کو پھر طلاق دیدی، پھر وہی حالت رہنے پر ۱۵/۵/۲۰۱۷ء کو طلاق دیدی۔ اس کے والدین نے یہ ماننے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ہم ایک بار میں تین طلاق کو مانتے ہیں، جس سے مجبوراً میں نے کہا کہ میں مصروف علی اپنی بیوی عذرا بانو کو حق زوجیت سے جدا کرتا ہوں، ایسا میں نے تین بار کہا۔ کیا اس عمل میں طلاق پورا ہوا؟
برائے مہربانی بتانے کی زحمت کریں۔

Published on: Nov 2, 2017

جواب # 155668

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 106-92/D=2/1439



آپ رشتہ زوجیت ختم کرنے کے لیے ایک مرتبہ طلاق دے کر ازدواجی تعلق منقطع کرلیتے حتی کہ اس کی عدت پوری ہوجاتی پس نکاح بالکل ختم ہوجاتا۔



یا ایک طلاق بائنہ دے دیتے اس کے بعد نکاح فوری طور پر ختم ہوجاتا اور عدت کے بعد لڑکی کو کسی سے بھی اپنا نکاح کرنے کا اختیار مل جاتا۔ آپ نے جو طریقہ تین طلاق دینے کا اختیار کیا اس کی ضرورت نہیں تھی پھر بھی جب آپ نے تین مہینوں میں الگ الگ تین طلاق دیدی تو اس سے بیوی پر تین طلاق مغلظہ واقع ہوگئی اور نکاح بالکلیہ ختم ہوگیا۔ اس کے بعد لڑکی والوں کے کہنے پر آپ نے جو کہا میں ”عذرا بانو کو حق زوجیت سے جدا کرتا ہوں“ لغو اور فضول ہوا۔ عدت کا حکم ۵/۳/۱۷سے ہی لاگو ہوگا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات