معاشرت - طلاق و خلع

India

سوال # 155457

حضرت مفتی صاحب! ماں باپ کے کہنے پر بیوی کو طلاق دینا کیسا ہے؟ گرچہ بیوی کا مزاج شوہر سے ملتا ہو یا شوہر کو اس سے کوئی تکلیف نہ ہو مگر ماں باپ کو تکلیف ہو یا بے وجہ کہیں تو کیا بات ماننی چاہئے یا نہیں؟ یا کب ماں باپ کے کہنے پر طلاق دینی پڑے گی؟ اس کی شکل بھی بتائیں۔

Published on: Oct 30, 2017

جواب # 155457

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:106-37/sd=2/1439



اگر شوہر طلاق دینے کی کوئی معقول وجہ نہیں سمجھتا اور والدین اُس سے بیوی کو بلا وجہ طلاق دینے کا مطالبہ کریں، تو اسے اپنے والدین کو نرمی کے ساتھ سمجھانا چاہئے کہ طلاق بالکل آخری قدم ہے جسے بغیر شدید مجبوری کے اختیار نہیں کرنا چاہئے ۔ حدیث میں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد منقول ہے کہ ابغض المباح الی اللہ الطلاق یعنی مباحات میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض چیز طلاق ہے ، اگر پھر بھی وہ نہ سمجھیں تو طلاق نہ دے ، ایسی صورت میں طلاق دینا ضروری نہیں ہے ، ہاں اگر ان کا امر کسی وجہ شرعی کی بنا پر ہو اور طلاق دینے میں کوئی محظور شرعی بھی لازم نہ آتا ہو تو بیٹا والدین کی اطاعت کرتے ہوئے بیوی کو طلاق دیدے ( امداد الفتاوی :۴۸۰/۴، رسالہ تعدیل حقوق الوالدین،فتاوی دار العلوم : ۵۲۰/۱۶، ۵۲۱، فتاوی عثمانی :۱۹۲/۱)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات