معاشرت - طلاق و خلع

Pakistan

سوال # 155442

سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو انتہائی غصہ کی حالت میں کسی لڑائی کی وجہ سے یہ کہے کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں جو دل میں آئے ویسا ہی کرو میری طرف سے تم آزاد ہو تو اس صورت میں کتنی طلاق واقع ہو چکی ہیں اور اس کا حل کیا ہے ؟

Published on: Nov 6, 2017

جواب # 155442

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:102-96/L=2/1439



صورتِ مسئولہ میں اگر شوہر نے تجھے طلاق دیتا ہوں کے بعد کے جملے ”جو دل میں آئے ویسا ہی کرومیری طرف سے تم آزادہو“محض نتیجے کے طور پر کہے ہیں ان سے طلاق دینا مقصود نہیں تھا تو صرف ایک طلاقِ رجعی بیوی پر واقع ہوئی جس میں تا وقتِ عدت بیوی سے رجعت کرنا جائز ہوگا،اور رجعت کی صورت یہ ہوگی کہ بیوی سے یہ کہدے کہ میں نے رجعت کرلی ہے رجعت ہو جائے گی اور اس پر گواہ بنالینا مستحب ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات