عبادات - طہارت

India

سوال # 170987

میں کپڑے پاک کرنے کے لیے مندرجہ ذیل طریقے اپنا تا ہوں، کیا یہ طریقہ صحیح ہے یا نہیں؟
(۱) میں اپنے ناپاک اور پاک کپڑوں کو ایک ساتھ واشنگ مشین میں دھونے کے لیے ڈال دیتاہوں ، پھر پندرہ منٹ مشین چلا کر ان تمام کپڑوں کو نچوڑ نے کے لیے ایک ٹب میں ڈالتاہوں اور اوپر سے ٹونٹی کھول کر پانی بھرتاہوں یہاں تک کہ پانی ٹب سے نیچے بہنے لگے، پھر ٹونٹی بند کرکے ایک ایک کپڑے کو نکال نچوڑ دتا ہوں ، ٹب کو دھوکر پھر سارے کپڑے دو بارہ اسی میں ڈال کر دوبارہ نیا پانی بھرتاہوں یہاں تک پانی ٹب سے بہہ جائے اور ایک ایک کر کے کپڑے نچوڑتاہوں، پھرتیسری بار بھی ایسا ہی کرکے کپڑا سوکھاتا ہوں ، مجھے اس طریقے کار میں ایک یا دو شک ہے کہ کیا ٹب میں سے پانی بہے جب تمام کپڑے پانی میں مکمل ڈوبے ہونے چاہئے یا نہیں؟ اورکیا میرا طریقہ صحیح ہے یا نہیں کپڑا پاک کرنے کے لیے ؟
(۲) اگر کپڑے صحیح طورپر اپاک نہ ہو ں اور ان کپڑوں کو تار یا رسی پر سوکھا دیا جائے تو کیا وہ تار ناپاک ہوجاتاہے ؟ کیا اس تار پر ایک دو دن کے بعد پاک کپڑوں کو سوکھانے کے لیے ڈال سکتے ہیں یا نہیں؟ یعنی تار یا رسی کو پاک کرنا ضروری ہوگا ؟
(۳) اگر مجھے غسل کی حاجت ہو اور میں سب سے پہلے سر سے پیر تک صابن سے جسم کو صاف کرلوں اور پورے جسم پر پانی بہا ؤں تو کیا مجھے غسل کے واجبات کے وقت پھر سے تین بار جسم پر پانی بہانا پڑے گا؟ یا صرف کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا کافی ہوگا؟ جزاک اللہ

Published on: Aug 6, 2019

جواب # 170987

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:941-181T/sn=12/1440



(1) آپ کا یہ طریقہ شرعا درست ہے، اس سے کپڑے پاک ہوجائیں گے،اگر ٹب پورا نہ بھریں یا بعض کپڑے ابتدا ءً پانی میں نہ ڈوبے ہوں تب بھی کپڑے پاک ہوجائیں گے۔



(2) اگر کپڑے پاک نہیں کیے گئے تھے تو اگر رسی یا تار پر ڈالتے وقت وہ اتنے گیلے تھے کہ اگر انہیں نچوڑا جاتا تو ان سے پانی نکلتا تو وہ رسی ناپاک ہوجائے گی؛ البتہ آئندہ پاک کپڑے اس پرسکھانے کے سلسلے میں یہ تفصیل ہے کہ اگر کپڑے بہت زیادہ گیلے ہوں، جن سے رسی بھی اس طرح بھیگ جائے کہ اس میں لگا ہوا پانی دوبارہ کپڑے پر لگ جائے تو کپڑے ناپاک ہوجائیں گے۔



(لف ثوب نجس رطب فی ثوب طاہر یابس فظہرت رطوبتہ علی ثوب طاہر) کذا النسخ. وعبارة الکنز: علی الثوب الطاہر (لکن لایسیل لوعصر لایتنجس) قدمناہ قبیل کتاب الصلاة (کما لونشرالثوب المبلول علی حبل نجس یابس)إلخ (قولہ لف ثوب نجس رطب) أی مبتل بماء ولم یظہر فی الثوب الطاہرأثرالنجاسة، بخلاف المبلول بنحوالبول لأن النداوة حینئذ عین النجاسة، وبخلاف ما إذا ظہر فی الثوب الطاہرأثرالنجاسة من لون أو طعم أوریح فإنہ یتنجس کما حققہ شارح المنیة وجری علیہ الشارح أول الکتاب (قولہ لا یتنجس) لأنہ إذا لم یتقاطر منہ بالعصر لا ینفصل منہ شیء وإنما یبتل ما یجاورہ بالنداوة وبذلک لا یتنجس بہ. وذکرالمرغینانی إن کان الیابس ہو الطاہر یتنجس لأنہ یأخذ بللا من النجس الرطب، وإن کان الیابس ہو النجس والطاہر والرطب لایتنجس لأن الیابس النجس یأخذ بللا من الطاہر ولا یأخذ الرطب من الیابس شیئا زیلعی. وظاہر التعلیل أن الضمیر فی یسیل وعصر للنجس، وبہ صرح صاحب مواہب الرحمن، ومشی علیہ الشرنبلالی والمتبادر من عبارة المصنف کالکنز وغیرہ أنہ للطاہر، وہو صریح عبارة الخلاصة والخانیة ومنیة المصلی وکثیر من الکتب کالقہستانی وابن الکمال والبزازیة والبحر، والأول أحوط ووجہہ أظہر، والثانی أوسع وأسہل فتبصر. (قولہ کما لونشر إلخ) ہذا موافق لما ذکرہ المرغینانی، وقد جعلہ الزیلعی مفرعا علیہ حیث قال عقب عبارتہ السابقة : وعلی ہذا إذا نشر المبلول علی حبل نجس ہو یابس لا یتنجس الثوب لما ذکرنا من المعنی. (رد المحتار) 10/ 454،ط: زکریا، دیوبند)نیز دیکھیں: فتاوی دارالعلوم دیوبند1/267،سوال:530، احسن الفتاوی2/99،ط: زکریا)



(3) صورت مسئولہ میں پھر سے تین مرتبہ جسم پر پانی بہانا ضروری نہیں ہے؛ البتہ غسل کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ اوّلا آدمی بدن یا کپڑے میں لگی نجاست کو دھوئے پھر وضو کرے ،اس کے بعد پورے بدن پر پانی ڈال کر نہائے ؛ لہذا آپ بھی اسی ترتیب سے غسل کیا کریں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات