عبادات - طہارت

India

سوال # 169953

(۱) میں 2007سے لے کر 2012ء تک مڈل ایسٹ قطر میں ملازمت کررہاتھا، اس دوران اللہ تعالی کے کرم سے مجھے 2011میں حج کرنا نصیب ہوا، حج کے دوران ہندوستان کے ہی ایک میرے بھائی جو قطر کی ایک مسجد میں موٴذن تھے ، میرے ساتھ کمرے میں ٹھہرے ہوئے تھے، حج کارکن طواف زیارت کے لیے ہم دونوں نے ایک ٹیکسی کی، ٹیکسی میں بہت تھکے ہونے کی وجہ سے ہم دونوں کو ہی نیند ستانے لگی ، میرا دوست بیٹھا بیٹھا سو گیا ، ان کے منہ سے خراٹوں کی آواز بھی سنی، مجھے بھی نیند کا جھونکا آیا ، لیکن میں نیند اور ہوش کے درمیان کی کفیت میں رہا ، مطلب ٹھیک سے جگا بھی نہیں اور نہ ٹھیک سے سویا۔ جب ہم حرم شریف میں اترے تو اپنا اپنا وضو دہرالینا بہتر سمجھا ، لیکن وضو خانے میں گئے تو وہاں حد سے زیادہ بھیڑ دیکھی اور ہمارے حوصلے پست ہوگئے ،اس جگہ پر میرے دوست نے جو موٴذن بھی تھے، مجھے ایک حدیث سنائی جس میں ایسا ہی واقعہ تھا کہ جب حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے بیٹھے سو گئے تھے اور صحابہ نے ان کے منہ سے بھی خراٹوں کی آواز سنی ، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک صاحب نے جگایا تو آپ نے بنا وضو دہرائے نماز پڑھائی۔ اس حدیث کے مد نظر ہم دونوں بنا وضو دہرائے طواف زیارت کرکے آگئے ۔
اب مجھے یہ خیال کھائے جارہا ہے کہ طواف زیارت حج کے فرائض میں سے ہے اور اس کے لیے باوضو ہونا شرط ہے، ایسے میں اگر سونے سے میرا وضو ٹوٹ گیا تو میرا حج قبول نہیں ہوگا۔ آپ مہربانی کرکے مجھے بتائیں کہ میں کیا کروں؟ کیا مجھے دم دینا ہوگا؟ اگر دم دینا ہوگا تو کیا مجھے واپس حرم شریف جانا ہوگا یا میں کسی اور بھائی کو جو وہاں کا مقیم ہو پیسہ ٹرانسفر کردوں اور وہ میری طرف سے دم دیدے؟
(۲) میرا دوسرا سوال ہے کہ مجھے لوگوں نے کہا ہے کہ حج کبھی مفلسی نہیں لاتا، جب کہ میرا ہندوستان واپس لوٹنے کے بعد یہ حال ہوگیاہے کہ پچھلے سات سالوں سے میرے پاس روزگار نہیں ہے، دو دو ماہر کی ڈگری ہونے کے باوجود مجھے کوئی نوکری نہیں دیتا، اس لیے کافی عمر نکل جانے کے باوجود میری شادی نہیں ہوپائی، اب سب باتوں سے مجھے لگتاہے کہ میرا حج واقع قبول نہیں ہوا، میں نے آپ کی ویب سائٹ پر دیئے تمام دعا اور وسعت رزق کے لیے بتائے طریقوں پر عمل کیا پر کامیابی نہیں مل پائی ہے ابھی تک ، آپ کا بڑا احساسن ہوگا اگر حدیث کی روشنی میں سخت مالی تنگی اور قرض کو دور کرنے کا کوئی طریقہ بتائیں۔

Published on: Jul 13, 2019

جواب # 169953

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 886-139T/D=10/1440



اگر آپ ٹیک لگاکر ایسی گہری نیند سوگئے تھے کہ اگر پیچھے کا ٹیک ہٹ جاتا تو آپ گر جاتے اور آپ کا بدن نیند کی وجہ سے بالکل ڈھیلا ہو گیا تھا تو ایسی نیند ناقض وضو ہے پس آپ کو وضو کرنے کے بعد ہی طواف زیارت کرنا چاہئے تھا، لیکن اگر اسی طرح حدث کی حالت میں ہی طواف زیارت کرلیا اور پھر طواف کا اعادہ بھی نہیں کیا گیا تو پھر دم دینا واجب ہے جس کے لئے خود آپ کا جانا ضروری نہیں ہے بلکہ وہاں موجود کسی شخص کو یا یہاں سے جانے والے کسی شخص کو روپئے دیدیں کہ وہ منیٰ میں آ پ کی طرف سے جانور (بکرا) ذبح کروا دے، بکرا خاص بقرعید کے دنوں میں ذبح کیا جانا ضروری نہیں بلکہ منیٰ میں کبھی بھی ذبح کیا جاسکتا ہے۔ ولو طاف للزیارة کلہ او اکثرہ فعلیہ شاة ویعید طاہراً استحباباً وقیل حسّماً (غنیة الناسک: ۳۵۱)



اور اگر اس درجہ کی نیند نہیں جو اوپر لکھی گئی بلکہ ہلکی پھلکی تھی جس سے قوت ماسکہ زایل نہیں ہوتی تو پھر طواف ادا ہوگیا کوئی دم واجب نہیں۔



(۲) آپ اس وسوسے میں نہ پڑیں اللہ تعالی کی طرف سے جو حالات پیش آتے ہیں خواہ تنگی اور فراخی کے ہوں یا مصیبت و راحت کے قبیل سے اس میں بے شمار حکمتیں ہوتی ہیں مسلمان کا کام یہ ہے کہ ان پر راضی رہے اپنی طرف سے کسی متعینہ فعل کا نتیجہ سمجھنا غلط ہے۔



اگر حج کے معاملہ میں کوئی کوتاہی ہوئی بھی ہو تو توبہ استغفار کرکے طبیعت کو یکسو کرلیں اور اللہ تعالی کے فیصلوں پر راضی ہوتے ہوئے اسباب کے ذریعہ کوشش کریں اور سب سے قوی سبب اللہ تعالی سے دعا کرنا ہے اسے مضبوطی سے اختیار کریں۔



بعد نماز عشاء اسم ”یَا لَطِیْفُ‘ گیارہ سو گیارہ (۱۱۱۱) مرتبہ پڑھیں، اول آخر گیارہ گیارہ (۱۱-۱۱) بار درود شریف پڑھیں پھر دعا کریں، چالیس روز تک یہ عمل کریں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات