عبادات - صوم (روزہ )

India

سوال # 179139

حضرات مفتیان کرام دار الافتاء دار العلوم دیوبند!
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
ملک میں نافذ لاک ڈاوٴن اور سماجی فاصلہ کی تاکید کی وجہ سے نت نئے مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ نماز پنجگانہ اور جمعہ کے سلسلے میں دار الافتاء کی طرف سے رہنمائی مل چکی ہے۔
اب رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔ اس کے بعد نماز عید کا مسئلہ سامنے آئے گا، اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ رمضان المبارک میں نماز پنجگانہ، تراویح، اعتکاف اور پھر نماز عید الفطر سے متعلق ممکنہ سوالات کو سامنے رکھ کر ایک ہدایت نامہ دارالافتاء کی طرف سے جاری کردیا جائے۔
حضرات مفتیان کرام بھی اپنے تحریری وزبانی جوابات میں ان کی رعایت فرمائیں اور ملک کے تمام علمائے کرام اور عامة المسلمین کو بھی رہنمائی حاصل ہو۔
(ابوالقاسم نعمانی غفرلہ)
مہتمم دارالالعلوم دیوبند
۱۸/۸/۱۴۴۱ھ = ۱۳/۴/۲۰۲۰ء

Published on: May 14, 2020

جواب # 179139

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:732-111T/N=8/1441



کورونا وائرس کو لے کر پورے ملک میں جو لاک ڈاوٴن نافذ تھا، وہ اب ۳/ مئی تک کردیا گیا ہے، اور اسی میں رمضان کا بابرکت مہینہ آرہا ہے، جو مسلمانوں کے لیے انتہائی خیر وبرکت اور رحمت خداوندی کا مہینہ ہے۔ اور اس بابرکت مہینے میں تقریباً ہر مسلمان ذوق وشوق سے زیادہ سے زیادہ عبادت خداوندی اور صدقہ خیرات وغیرہ میں حصہ لینے کی کوشش کرتا ہے؛ اس لیے ملک میں جاری لاک ڈاوٴن اور اُس سے پیدا شدہ صورت حال کے تناظر میں ماہ رمضان سے متعلق اہم امور میں ہندوستان کے مسلمانوں کو درج ذیل ہدایات دی جاتی ہیں، سب مسلمانوں سے گذارش ہے کہ ملک وملت کے مفاد میں ان ہدایات پر عمل پیرا ہوں:



(۱): رمضان کا چاند



 آیندہ ۲۴/ اپریل ( جمعہ) کو،شعبان کی ۲۹ویں تاریخ ہے؛ لہٰذا ہر علاقے کے لوگ اپنے اپنے گھروں پر چاند دیکھنے کا اہتمام کریں، اور اگر کہیں چاند نظر آجائے تو مقامی علما ومفتیان کرام کے ذریعے ملک کی مرکزی ہلال کمیٹیوں سے رابطہ کریں، جیسے: رویت ہلال کمیٹی دار العلوم دیوبند، رویت ہلال کمیٹی امارت شرعیہ ہند (دہلی)، رویت ہلال کمیٹی امارت شرعیہ، پھلواری شریف (پٹنہ) وغیرہ۔ اور پھر جب چاند کا فیصلہ ہوجائے تو عشا میں تراویح کا اہتمام کریں۔ چاند کے مسئلے کو لے کر گھروں سے نہ نکلیں اور نہ پٹاخہ وغیرہ چھوڑیں، نیز کسی بھی آپسی انتشار وخلفشارسے مکمل پرہیز کریں؛ البتہ چاند کا فیصلہ ہوجانے پر مسجدکے مائیک سے چاند کا مختصر اعلان کردیا جائے۔



نوٹ: ہندوستان کی تمام مرکزی ہلال کمیٹیوں کے فیصلے کے مطابق گذشتہ رجب کامہینہ ۳۰کا قرار دیا گیا تھا ؛لیکن ۱۵/ شعبان کے قریب بعض علاقوں سے ۲۹/ رجب کی رویت کی خبریں موصول ہوئیں اور جب اُن کی تحقیق کی گئی تو وہ قابل توجہ تھیں؛ اس لیے اُس وقت یہ طے کیا گیا تھا کہ رمضان کے چاند میں احتیاط کے درجے میں اِن خبروں کا لحاظ کیا جائے گا؛ لہٰذا لوگوں کو چاہیے کہ احتیاطاً ۲۸/ شعبان (مطابق: ۲۳/ اپریل، پنجشنبہ) کو بھی چاند دیکھنے کا اہتمام کریں۔



(۲): رمضان کا روزہ



رمضان کا روزہ، اسلام کا ایک اہم ترین فریضہ اور رکن ہے، بلا عذر شرعی رمضان کا روزہ نہ رکھنا بہت بڑا گناہ ہے؛ لہٰذا تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ رمضان المبارک کے روزوں کا خاص اہتمام کریں بالخصوص وہ تندرست وصحت مند حضرات، جو گرمی یا کام کاج وغیرہ جیسے معمولی اعذار کی بنا پر روزہ نہیں رکھتے؛کیوں کہ لاک ڈاوٴن کی وجہ سے سب لوگ گھر ہی پر رہیں گے؛ البتہ جنھیں واقعی کوئی عذر یا بیماری ہو، وہ کسی معتبر مفتی سے مسئلہ معلوم کرکے عمل کریں۔



(۳): نماز پنجگانہ اور جمعہ



لاک ڈاوٴن کے دوسرے مرحلہ کی گائیڈ لائن میں عبادت گاہوں کے تعلق سے کوئی نئی ہدایت نہیں دی گئی ہے؛ لہٰذا مساجد اور گھروں میں نماز پنجگانہ اور جمعہ کے تعلق سے دار العلوم کی طرف سے جو ہدایات دی جاچکی ہیں، اُنھیں پر حسب سابق عمل جاری رکھا جائے، اور کوئی بھی ایسا کام نہ کیا جائے، جو اپنے لیے یا کسی دوسرے (بالخصوص مسلمانوں) کے لیے پریشانی کا باعث ہو؛ البتہ حالات کی نزاکت کے تناظر میں درج ذیل چیزوں پر بھی عمل کیا جائے:



الف: مسجد کی جماعت کے لیے امام اور موٴذن کے علاوہ جن حضرات کو متعین کیا گیا ہو یا کیا جائے، ہر نماز میں وہی حضرات نماز ادا کریں۔ مختلف نمازوں میں مختلف افراد کا نظام نہ بنایا جائے۔



ب: مسجد کی جماعت کے لیے جن حضرات کو متعین کیا گیا ہو یا کیا جائے، وہ جوان یا ادھیڑ عمر، پابند نماز اور حتی الامکان باشرع ہونے چاہئیں۔



ج: امام اور موٴذن کے علاوہ اگر دوسرے دو، تین افراد کی تعیین میں اختلاف ہو تو قرعہ اندازی کے ذریعے تعیین کی جائے؛ تاکہ اہل محلہ میں کسی کو اعتراض یا بدگمانی کا موقعہ نہ ملے۔



د: جن حضرات کو مسجد میں نماز باجماعت کا موقعہ نہ مل سکے، اُنھیں سمجھایا جائے کہ آپ حضرات کو نیت کے مطابق گھروں میں مسجد ہی کا ثواب ملے گاإن شاء اللہ؛ لہٰذا قانون شکنی کرکے مسجد آنے کی کوشش نہ کریں۔ اور اگر کوئی شخص ضد کرے تو اُسے نرمی ومحبت کے ساتھ سمجھایا جائے ۔ اور اگر وہ پھر بھی نہ مانے تو اُسے روکنے میں محلہ کے با اثرحضرات، امام وموٴذن وغیرہ کا تعاون کریں۔



(وإذا انقطع عن الجماعة لعذر من أعذارھا المبیحة للتخلف)، وکانت نیتہ حضورھا لولا العذر الحاصل (یحصل لہ ثوابھا) لقولہ صلی اللہ علیہ وسلم:”إنما الأعمال بالنیات، وإنما لکل امریٴ ما نوی“۔ (مراقی الفلاح مع حاشیة الطحطاوي علیہ، کتاب الصلاة، باب الإمامة، فصل: یسقط حضور الجماعة الخ، ص: ۲۹۹، ط: دار الکتب العلمیة بیروت)۔



والظاھر أن المراد بہ العذر المانع کالمرض والشیخوخة والفلج (رد المحتار، کتاب الصلاة، باب الإمامة، ۲: ۲۹۱، ط: مکتبة زکریا دیوبند، ۳: ۵۱۱، ت: الفرفور، ط: دمشق)۔



ھ: جو حضرات ماہانہ یا ہفتہ واری مسجد کا مالی تعاون کرتے ہیں، وہ ان حالات میں بھی حسب حیثیت واستطاعت مسجد کا تعاون جاری رکھیں، بند نہ کریں اگرچہ انھیں مسجد میں نماز کا موقعہ نہ مل رہا ہو؛ تاکہ مسجد کا نظم وانتظام حسب سابق جاری رہے۔



(۴):نماز تراویح



 تراویح کی نماز(۲۰/ رکعت)، رمضان المبارک کی خاص عبادت ہے اور ہر مرد وعورت پر سنت موٴکدہ ہے؛ لہٰذا ماہ رمضان میں تراویح کا خاص اہتمام کیا جائے؛ البتہ مساجد میں تو انتظامیہ کی اجازت کے مطابق صرف تین، چار یا پانچ افراد تراویح ادا کریں۔ اور تراویح کے لیے یہ تین ، چار یا پانچ افراد وہی ہوں، جو دیگر نمازوں کے لیے متعین کیے گئے ہیں۔ اور باقی حضرات اپنے اپنے گھروں میں تراویح باجماعت ادا کریں۔ اور جن لوگوں کے لیے اپنے گھروں میں جماعت کی صورت نہ بن سکے، وہ تنہا تنہا تراویح ادا کریں۔



(التراویح سنة) موٴکدة لمواظبة الخلفاء الراشدین (للرجال والنساء) جمیعاً، -إلی قولہ:- (والجماعة فیھا سنة علی الکفایة) في الأصح؛ فلو ترکھا أھل مسجد أثموا، لالو ترک بعضھم، وکل ما شرع بجماعة فالمسجد فیہ أفضل، قالہ الحلبي۔ (وھي عشرون رکعة) الخ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل، ۲:۴۹۳-۴۹۵، ط: مکتبة زکریا دیوبند، ۴: ۳۵۸- ۳۶۴، ت: الفرفور، ط: دمشق)۔



قولہ: (والجماعة فیھا سنة علی الکفایة إلخ):أفاد أن أصل التراویح سنة عین، فلو ترکھا واحد کرہ، بخلاف صلاتھا بالجماعة؛ فإنھا سنة کفایة، فلو ترکھا الکل أساوٴوا، أما لو تخلف عنھا رجل من أفراد الناس وصلی في بیتہ فقد ترک الفضیلة، وإن صلی أحد في البیت بالجماعة لم ینالوا فضل جماعة المسجد وھکذا في المکتوبات کما في المنیة۔ وھل المراد أنھا سنة کفایة لأھل کل مسجد من البلدة أو مسجد واحد منھا أو من المحلة؟ ظاھر کلام الشارح الأول، واستظھر الثاني ط، ویظھر لي الثالث لقول المنیة: حتی لو ترک أھل محلة کلھم الجماعة فقد ترکوا السنة وأساوٴوا اھ، وظاھر کلامھم ھنا أن المسنون کفایة إقامتھا بالجماعة في المسجد، حتی لو أقاموھا جماعة في بیوتھم ولم تقم في المسجد أثم الکل، وما قدمناہ عن المنیة فھو في حق البعض المتخلف عنھا۔ (رد المحتار)۔



(۵):تراویح میں قرآن پاک پڑھنا یا سننا



 تراویح میں پورا قرآن پاک پڑھنایا سننا بھی سنت ہے ؛ لہٰذا حتی الامکان ہر مسجد میں ختم قرآن پاک کا نظم کیا جائے۔ اور اگر سامع کا بھی نظم ہوجائے تو بہتر ہے؛ تاکہ ضرورت پر وہ لقمہ دے سکے اور قرآن کریم میں کوئی غلطی نہ رہ جائے۔ یعنی: مسجد میں امام، موٴذن، حافظ قرآن، سامع وغیرہ (صرف، چار، پانچ حضرات) تراویح ادا کریں۔



اور گھروں میں اگرکوئی حافظ قرآن میسر ہو تو تراویح میں پورا قرآن پاک سنا جائے۔ اور اگر کوئی حافظ قرآن نہ ہو تو اَلَمْ تَرَ کَیْفَ سے تراویح پڑھی جائے۔ اور جن لوگوں کو صرف دو، چار سورتیں یاد ہوں، وہ وہی سورتیں بار بار پڑھ کر تراویح پڑھ لیا کریں۔



قولہ: (والختم مرة سنة) :أي: قراء ة الختم في صلاة التراویح سنة وصححہ في الخانیة وغیرھا، وعزاہ في الھدایة إلی أکثر المشایخ، وفي الکافي إلی الجمہور، وفي البرھان: وھو المروي عن أبي حنیفة والمنقول في الآثار ( رد المحتار، کتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل، ۲:۴۹۷، ط: مکتبة زکریا دیوبند، ۴: ۳۶۹، ت: الفرفور، ط: دمشق)۔



قال في البحر: فالمصحح في المذھب أن الختم سنة (المصدر السابق، ص: ۴۹۸، ط: مکتبة زکریا دیوبند، ص: ۳۷۰، ت: الفرفور، ط: دمشق)۔



(وسن الختم) أي: ختم القرآن علی الأصح وھو قول الأکثر (مرة) في صلاة التراویح؛ لأن شھر رمضان أنزل فیہ القرآن، وکان النبي صلی اللہ علیہ وسلم یعرضہ فیہ علی جبرائیل کل سنة مرة، وفي السنة الأخیرة عرضہ مرتین الخ (ولا یترک) الختم (لکسل القوم)۔ (فتح باب العنایة بشرح النقایة، ۱: ۳۴۵،۳۴۶)۔



(وقیل) القائل صاحب الاختیار (الأفضل في زماننا قدر مالا یثقل علیھم) (الغرر والدرر مع الغنیة للشرنبلالي،۱: ۱۲۰،ط: باکستان)، قولہ: (وقیل القائل صاحب الاختیار إلخ): أقول: عبارتہ تفید ضعفہ، وفی البحر خلافہ، والجمہور علی أن السنة الختم (غنیة ذوي الأحکام في بغیة درر الحکام)۔



نوٹ: مسجد میں تراویح کے لیے اگر امام کے علاوہ کسی حافظ کا نظم کیا جائے تو حافظ صاحب کا قیام مسجد ہی میں رکھا جائے یا مسجد سے قریب کسی مکان میں، حافظ صاحب کے لیے روزانہ تراویح کے لیے دوردراز علاقہ یا دوسرے محلہ سے آنے کا نظم ہرگز نہ رکھا جائے۔ اور اگر کوئی حافظ صاحب مسجد میں یا مسجد سے قریب مکان میں قیام کے لیے تیار نہ ہوں تو اَلَمْ تَرَ کَیْفسے تراویح پڑھ لی جائے۔



اسی طرح گھروں میں بھی تراویح کے لیے دور دراز علاقہ یا دوسرے محلہ سے حافظ کا نظم نہ کیا جائے، گھروں میں صرف گھر کے افراد تراویح ادا کریں۔حالات کے تناظر میں احتیاط اسی میں ہے۔



(۶): تراویح میں نابالغ کی امامت



فرائض کی طرح نوافل میں بھی نابالغ بچہ، بالغ مقتدیوں کی امامت نہیں کرسکتا، مختار ومفتی بہ قول یہی ہے؛ لہٰذا تراویح میں کسی نابالغ بچے کو امام نہ بنایا جائے اگر چہ وہ حافظ ہو؛ البتہ اگر وہ نابالغ بچوں کی امامت کرے تو کچھ حرج نہیں۔



وأما الصبي فلأن صلاتہ تقع نفلاً فلا یجوز الاقتداء بہ، قیل: یجوز فی التراویح لأنھا لیست بفرض، والصحیح الأول؛لأن نفلہ أضعف من نفل البالغ، فلا یبتنی علیہ (الاختیار لتعلیل المختار، ۱: ۲۰۲، ط: دار الرسالة العالمیة)۔



وعلی قول أیمة بلخ یصح الاقتداء بالصبیان فی التراویح والسنن المطلقة کذا في فتاوی قاضیخان، المختار أنہ لا یجوز فی الصلوات کلھا کذا فی الھدایة ،وھو الأصح ھکذا فی المحیط، وھو قول العامة وھو ظاھر الروایة ھکذا فی البحر الرائق (الفتاوی الھندیة، کتاب الصلاة، باب الإمامة،الفصل الثالث في بیان من یصلح إماما لغیرہ، ۱: ۸۵، ط: المطبعة الکبری الأمیریة، بولاق، مصر)۔



ومثلہ في کتب الفقہ والفتاوی الأخری۔



(۷): تراویح میں قرآن کریم دیکھ کر پڑھنا



 تراویح (یا کسی بھی فرض یا نفل نماز) میں قرآن کریم دیکھ کر پڑھنا احناف کے نزدیک درست نہیں اور اس سے نماز فاسد ہوجاتی ہے۔ اور حنابلہ اور شوافع کے نزدیک اگرچہ جائز ہے؛ لیکن بلا ضرورت شرعیہ مذہب غیر اختیار کرنا درست نہیں۔ اور جب حافظ میسر نہ ہونے کی صورت میں اَلَمْ تَرَ کَیْف سے تراویح بلا کراہت جائز ہے تو یہاں ضرورت شرعیہ متحقق نہیں؛ لہٰذا حافظ میسر نہ ہونے کی صورت میں اَلَمْ تَرَ کَیْفسے تراویح پڑھی جائے، تراویح میں قرآن کریم دیکھ کر نہ پڑھا جائے۔



(و(یفسدھا) قراء تہ من مصحف) أي: ما فیہ قرآن (مطلقا)؛لأنہ تعلم الخ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب ما یفسد الصلاة وما یکرہ فیھا، ۲: ۳۸۳، ۳۸۴، ط: مکتبة زکریا، دیوبند، ۴: ۸۴، ت: الفرفور، ط: دمشق)۔



قولہ: ” أي: ما فیہ قرآن“: عممہ لیشمل المحراب، فإنہ إذا قرأ ما فیہ فسدت في الصحیح، بحر۔ قولہ: ”مطلقا“: أي: قلیلا أو کثیراً، إماما أو منفردا، أمیا لا یمکنہ القراء ة إلا منہ أو لا۔ قولہ: ”لأنہ تعلم“: ذکروا لأبي حنیفة في علة الفساد وجہین: أحدھما: أن حمل المصحف والنظر فیہ وتقلیب الأوراق عمل کثیر۔ والثاني أنہ تلقن من المصحف، فصار کما إذا تلقن من غیرہ،وعلی الثاني لا فرق بین الموضوع والمحمول عندہ، وعلی الأول یفترقان، وصحح الثاني في الکافي تبعا لتصحیح السرخسی۔ (رد المحتار)۔



وتحقیقہ قیاس قراء ة ما تعلمہ في الصلاة من غیر معلم حي علیھا من معلم حيبجامع أنہ تلقن من خارج وھو المناط في الأصل فقط فإن فعل الخارج لا أثر لہ في الفساد؛ بل الموٴثر فعل من في الصلاة، ولیس منہ إلا التلقن، ولم یفصل في الجامع بین القلیل والکثیر في الإفساد (فتح القدیر لابن الھمام، کتاب الصلاة، باب ما یفسد الصلاة وما یکرہ فیھا، ۱: ۲۸۶، ط: المطبعة الکبری الأمیریة، بولاق، مصر)۔



(۸):مسجد کے پڑوس یا اطراف یا بلڈنگ کے فلیٹس والوں کی بہ ذریعہ مائیک تراویح وغیرہ میں شرکت



 کسی مسجد کے پڑوس یا اطراف میں یا بڑی بلڈنگ کے مختلف فلیٹس میں جو لوگ رہتے ہوں، وہ بہ ذریعہ مائیک مسجد یا کسی دوسرے فلیٹ کی نماز پنجگانہ یا تراویح میں شرکت کی کوشش نہ کریں؛ کیوں کہ اس کی اکثر صورتوں میں اقتدا درست نہیں ہوتی؛ بلکہ سب لوگ اپنے اپنے گھروں یا فلیٹس میں مختصر افراد کے ساتھ نماز پنجگانہ اور تراویح ادا کریں۔



قولہ: ”واتحاد مکانہما“: فلو اقتدی راجل براکب أو بالعکس أو راکب براکب دابة أخری لم یصح لاختلاف المکان؛ فلو کانا علی دابة واحدة صح لاتحادہ کما في الإمداد، وسیأتي۔ وأما إذا کان بینہما حائط فسیأتي أن المعتمد اعتبار الاشتباہ لا اتحاد المکان، فیخرج بقولہ: ”وعلمہ بانتقالاتہ“، وسیأتي تحقیق ہذہ المسألة بما لا مزید علیہ (رد المحتار، کتاب الصلاة، باب الإمامة، ۲: ۲۸۵، ط: مکتبة زکریا دیوبند، ۳:۴۹۵، ت: الفرفور، ط: دمشق)۔



(ویمنع من الاقتداء) صف من النساء بلا حائل قدر ذراع أو ارتفاعہن قدر قامة الرجل، مفتاح السعادة۔ أو (طریق تجري فیہ عجلة) آلة یجرہا الثور، (أو نہر تجري فیہ السفن) ولو زورقا ولو في المسجد، ( أو خلاء) أي: فضاء (في الصحراء) أو في مسجد کبیر جدا کمسجد القدس (یسع صفین) فأکثر إلاإ ذا اتصلت الصفوف، فیصح مطلقا، کأن قام في الطریق ثلاثة، وکذا اثنان عند الثاني لا واحد اتفاقا؛ لأنہ لکراہة صلاتہ صار وجودہ کعدمہ في حق من خلفہ۔ (والحائل لا یمنع) الاقتداء (إن لم یشتبہ حال إمامہ) بسماع أو روٴیة ولو من باب مشبک یمنع الوصول في الأصح (ولم یختلف المکان) حقیقة کمسجد وبیت فی الأصح، قنیة، ولا حکما عند اتصال الصفوف؛ ولو اقتدی من سطح دارہ المتصلة بالمسجد لم یجز لاختلاف المکان، درر وبحر وغیرہما وأقرہ المصنف لکن تعقبہ في الشرنبلالیة ونقل عن البرہان وغیرہ أن الصحیح اعتبار الاشتباہ فقط، قلت: وفی الأشباہ وزواہر الجواہر ومفتاح السعاد أنہ الأصح، وفی النہر عن الزاد أنہ اختیار جماعة من المتأخرین (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب الإمامة، ۲: ۳۳۳- ۳۳۶، ط: مکتبة زکریا دیوبند، ۳: ۶۰۶- ۶۲۰، ت: الفرفور، ط: دمشق).



فقد تحرر بما تقرر أن اختلاف المکان مانع من صحة الاقتداء و لو بلا اشتباہ، وأنہ عند الاشتباہ لا یصح الاقتداء و إن اتحد المکان، ثم رأیت الرحمتي قرر ذلک فاغتنم ذلک (رد المحتار، ۲: ۳۳۵، ط: مکتبة زکریا دیوبند، ۳: ۶۱۹، ت: الفرفور، ط: دمشق)۔



(۹):حرمین شریفین یا کسی بھی مسجد کی لائیو(Live) نماز پنجگانہ، جمعہ یا تراویح میں شرکت



 حرمین شریفین (زادھما اللّٰہ شرفاً وعظمةً) یا کسی بھی مسجد کی لائیو (Live)نماز پنجگانہ، جمعہ یا تراویح میں دور دراز علاقوں سے یا کسی بڑے راستہ، میدان یا مکانات وغیرہ کے فصل کے ساتھ اقتدا درست نہیں؛ لہٰذا کسی لائیو نماز میں شرکت نہ کی جائے۔



(۱۰): تراویح میں صرف چھ یا دس دن میں ختم قرآن نہ کیا جائے



بعض مساجد یا گھروں میں تراویح میں چھ یا دس دن میں ختم قرآن کا اہتمام ہوتا ہے، جس میں عام طور پر ڈیڑھ، دو گھنٹے کا وقت لگتا ہے اور موجودہ حالات کے تناظر میں زیادہ وقت کے لیے لوگوں کا اکٹھا ہونا مناسب نہیں ہے؛ لہٰذا جن لوگوں کو تراویح میں ختم قرآن کا موقعہ ملے، وہ یومیہ تراویح میں صرف ایک یا سوا پارہ کا معمول بنائیں، تین یا پانچ پارے کا معمول نہ بنائیں۔



(۱۱):حافظہ خاتون کا عورتوں کو تراویح پڑھانا



خواتین میں اگر کوئی حافظہ قرآن ہواور وہ اپنی تراویح میں قرآن کریم پڑھنا چاہے تو اس میں کچھ حرج نہیں؛ البتہ وہ امام بن کر تراویح نہیں پڑھاسکتی اگرچہ اس کی اقتدا صرف عورتیں کریں؛ کیوں کہ عورتوں کی تنہا جماعت مکروہ ہے اگرچہ تراویح میں ہو۔ اور قرآن کریم یاد رکھنے کے لیے تنہا نوافل میں اور خارج میں زیادہ سے زیادہ قرآن پاک کی تلاوت کی جائے۔ اور اگر گھر میں کوئی دوسری حافظہ خاتون یا کوئی محرم مرد ہو تو اُسے روزانہ ایک، دو پارے یاد کرکے (خارج میں)سنادینا چاہیے (فتاوی محمودیہ، ۷: ۲۸۰، ۲۸۱، سوال: ۳۳۹۴، مطبوعہ: ادارہ صدیق، ڈابھیل)۔



(و) یکرہ تحریماً (جماعة النساء) ولو في التراویح الخ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب الإمامة، ۲:۳۰۵، ط: مکتبة زکریا دیوبند، ۳: ۵۴۶، ت: الفرفور، ط: دمشق)۔



قولہ: ”ویکرہ تحریماً“: صرح بہ فی الفتح والبحر، قولہ: ”ولو في التراویح“: أفاد أن الکراھة في کل ما تشرع فیہ جماعة الرجال فرضاً أو نفلاً (رد المحتار)۔



(۱۲):جو حضرات خواہش کے باوجود تراویح میں قرآن پاک نہ سن سکیں



مقامی علما ومفتیان کرام کو چاہیے کہ وہ عوام کو سمجھائیں کہ جو حضرات خواہش کے باوجود امسال تراویح میں قرآن پاک سننے کی سعادت نہیں حاصل کرپائیں گے، وہ پریشان نہ ہوں، وہ اپنی نیت کے مطابق إن شاء اللہ پورا ثواب پائیں گے ؛ لہٰذا مسلمانوں کو محض جذبات سے اوپر اٹھ کر ملک وملت کے مفاد میں اکابرین ملت کی ہدایات پر عمل پیرا ہونا چاہیے، اُن کی خلاف ورزی ہرگز نہیں کرنی چاہیے۔



(۱۳): ختم سحر اور اذان فجر میں جنتریوں کا اختلاف



 ہر سال رمضان میں قدیم وجدید جنتریوں کی وجہ سے ختم سحر اور اذان فجر کے سلسلہ میں عوام میں بہت زیادہ انتشار رہتا ہے اگرچہ اکثر اکابر علمائے دیوبند کے نزدیک قدیم جنتریاں ہی راجح ہیں اور احتیاط کی رعایت کے ساتھ انہی پر عمل کرلینا چاہیے؛ لیکن متعدد اکابر علما جدید جنتریوں پر ہی عمل کے قائل ہیں؛ اس لیے جن علاقوں میں قدیم وجدید جنتریوں کو لے کر مقامی علما کا اختلاف ہو، وہاں انتشار سے بچنے کی مناسب شکل یہ ہوسکتی ہے کہ ختم سحرکے اعلان اور اذان فجر میں قدیم وجدید دونوں ہی جنتریوں کا لحاظ کرلیا جائے؛ چناں چہ اس کے لیے جب دیوبند اور دیگر متعدد علاقوں کی جدید جنتریوں کا قدیم جنتریوں سے موازنہ کیا گیا تو ختم سحر (صبح صادق) کے وقت میں زیادہ سے زیادہ آٹھ، دس منٹ کافرق سامنے آیا ، یعنی: جدید جنتریوں میں زیادہ سے زیادہ آٹھ، دس منٹ بعد ختم سحر کا وقت لکھا گیا ہے ؛ جب کہ دونوں ہی جنتریاں ۱۸/ ڈگری صبح صادق کے حساب پر تیار کی گئی ہیں۔ پس احتیاط یہ ہے کہ ختم سحر کا اعلان قدیم جنتریوں کے حساب سے کیا جائے۔ اور فجر کی اذان ختم سحر سے دس منٹ بعد کہی جائے، اس صورت میں لوگوں کے روزے بھی بلاشک وشبہ صحیح و درست ہوں گے اور فجر کی اذان اور نماز بھی یقینی طور پر فجر کا وقت شروع ہونے کے بعد ہوگی؛ اسی لیے دارالعلوم دیوبند سے ہر سال ماہِ رمضان میں اوقات ِسحر وافطار کا جو نقشہ شائع ہوتا ہے، اُس میں چند سالوں سے اذان فجر کا بھی خانہ رکھا گیا ہے اور ہر روز اذان فجر کا وقت، قدیم جنتریوں کے حساب سے ختم سحر سے دس منٹ بعد لکھا جاتا ہے؛ لہٰذا اگر پورے ملک کے مسلمان اس تجویز پر عمل کریں گے تو قدیم و جدید جنتریوں کے اختلاف سے عوام میں انتشار نہ ہوگا اور پورا رمضان خیر وعافیت کے ساتھ گذرے گا إن شاء اللّٰہ تعالٰی۔



اور جن علاقوں میں مقامی علما کا کوئی اختلاف نہ ہو ، وہاں جس جنتری پر سب کا اتفاق ہو، افطار اور ختم سحر وغیرہ میں احتیاط کی رعایت کے ساتھ اُسی پر عمل کیا جائے۔



ومحل الاستحباب-أي: استحباب تأخیر السحور- إذا لم یشک في بقاء اللیل، فإن شک کرہ الأکل في الصحیح، کما في البدائع أیضاً (ردالمحتار، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم ومالا یفسدہ، ۳:۴۰۰، ط: مکتبة زکریا دیوبند، ۶:۳۴۲، ت: الفرفور، ط: دمشق)۔



ویکرہ تأخیرہ إلی وقت یقع فیہ الشک، ہندیة (حاشیة الطحطاوي علی المراقي، کتاب الصوم، فصل فیما یکرہ للصائم ومالا یکرہ وما یستحب، ص: ۶۸۳، ط: دارالکتب العلمیة بیروت)۔



(۱۴): مساجد سے افطار اور ختم سحر کا اعلان



لوگوں کو افطار کی اطلاع بہ ذریعہ اذان یا بہ ذریعہ اعلان (سائرن )حسب سابق مساجد سے کی جائے۔اور ختم سحر کا اعلان بھی حسب سابق مساجد سے کیا جائے اور لوگ اسی کے مطابق افطار اور ختم سحر کریں۔



اور بعض علاقوں میں جو ڈیڑھ دو گھنٹہ پہلے سحری کا اعلان شروع ہوجاتا ہے اور ختم سحر تک جاری رہتا ہے، یہ برادران وطن کے لیے اور مسلمانوں میں بیماروپریشان لوگوں اورعبادت کرنے والوں کے لیے اُن کی نیند اور عبادت وغیرہ میں خلل اور پریشانی کا باعث ہوتا ہے؛ لہٰذا اس سے پرہیز کیا جائے۔



(۱۵):مساجد میں افطار کا نظم نہ کیا جائے



 بعض علاقوں میں مساجد میں عمومی افطار کا نظم ہوتا ہے اور وہاں عام طور پر لوگ مساجد ہی میں افطار کرتے ہیں تو ایسے علاقے والوں کو بھی چاہیے کہ اس مرتبہ رمضان میں اپنے اپنے گھروں پر ہی افطار کریں، مساجد میں افطار نہ کریں؛ البتہ مسجد کی نماز باجماعت کے لیے متعین نمازی (امام اور موٴذن وغیرہ)مسجد ہی میں افطار کرلیا کریں۔



(۱۶):افطار پارٹی اور افطار بھیجنے کا اہتمام نہ کیا جائے



ملک میں بہت سے صاحب ثروت حضرات ماہ رمضان میں افطار پارٹی بھی کرتے ہیں۔ اور عزیز واقارب، دوست واحباب وغیرہ میں ایک دوسرے کے یہاں افطار بھیجنے کا تو عام معمول ہے؛ لیکن چوں کہ اول میں مختلف جگہوں سے مجمع اکٹھا ہوتا ہے اور دوسری صورت میں افطار پہنچانے کے لیے کم از کم گھر سے نکلنا ہوتا ہے اور دونوں ہی چیزیں لاک ڈاوٴن کے ماحول میں ہرگز مناسب نہیں؛ اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ افطار پارٹی سے گریز کریں اور عزیز واقارب، دوست واحباب وغیرہ میں بھی ایک دوسرے کے یہاں افطار نہ بھیجیں؛ البتہ اگر افطار کرانے کی فضیلت اور ثواب حاصل کرنے یا صلہ رحمی وغیرہ کے لیے ضرورت مند عزیز واقارب اور احباب وغیرہ کو افطار کے پیسے دیدیے جائیں اور وہ کسی دن اپنے گھر ان پیسوں سے افطار کا نظم کرلیں تو اس میں کچھ حرج نہیں، یہ بھی ایک قسم کی دعوت ہے۔



(۱۷):گھر میں نماز اور عبادت کے لیے کوئی کمرہ خاص کرنا



آج کل لاک ڈاوٴن کی وجہ سے اکثر لوگ گھر ہی پر نماز پڑھ رہے ہیں؛ لہٰذاجن لوگوں کا گھر وسیع وکشادہ ہو، اُنھیں نماز کے لیے کوئی کمرہ خاص کرلینا چاہیے؛ تاکہ سب اہل خانہ وہیں نمازیں ادا کریں اور وہیں قرآن پاک کی تلاوت اور ذکر واذکار وغیرہ کریں۔ اور اگر اہل خانہ میں کوئی شخص، رمضان کی راتوں میں جاگ کر عبادت کرنا چاہے تو اُسے اور دیگر اہل خانہ کو کوئی پریشانی نہ ہو۔ اور اُس کمرے کو خوب پاک صاف رکھا جائے۔ اور اگر گھر میں وہ خواتین بھی ہوں، جن کا گھر کے بعض مردوں سے پردہ ہو تو خواتین کے لیے نماز کا الگ کمرہ رکھا جائے یا مردوں اور خواتین کی نماز کے اوقات الگ الگ ہوں۔



مندوب لکل مسلم أن یعد في بیتہ مکاناً یصلي فیہ إلا أن ھذا المکان لا یأخذ حکم المسجد علی الإطلاق؛ لأنہ باق علی حکم ملکہ، لہ أن یبیعہ کذا في المحیط (الفتاوی الھندیة، کتاب الکراھیة، الباب الخامس في آداب المسجد والقبلة إلخ، ۵: ۳۲۰، ط: المطبعة الکبری الأمیریة، بولاق، مصر)۔



(۱۸): رمضان المبارک کے اخیر عشرے کا اعتکاف



رمضان المبارک کے اخیر عشرہ کا اعتکاف سنت موٴکدہ علی الکفایہ ہے، یعنی: محلہ کی مسجد میں کسی ایک شخص کا بہ نیت اعتکاف بیسویں تاریخ کو غروب آفتاب سے کچھ پہلے مسجد پہنچ جانا اور عید کا چاند ثابت ہونے تک مسجد ہی میں رہنا سنت موٴکدہ علی الکفایہ ہے ، اگر پورے محلہ والوں میں سے کسی نے اعتکاف نہیں کیا تو سب اہل محلہ کو ترک سنت کا گناہ ہوگا؛ لہٰذا موجودہ حالات میں لاک ڈاوٴن کی وجہ سے مسجد کی نماز باجماعت کے لیے متعین نمازیوں میں سے کوئی ایک اعتکاف بھی کرلے؛ تاکہ سنت موٴکدہ علی الکفایہ کی ادائیگی ہوجائے۔ اور اگر اخیر عشرے میں بھی لاک ڈاوٴن رہے تو اہل محلہ میں کسی اور کو اعتکاف کی اجازت نہ دی جائے؛ تاکہ مسجد میں پانچ سے زیادہ نمازی نہ ہوں۔



(و-ھو أي: الاعتلاف-سنة موٴکدة في العشر الأخیر من رمضان) أي: سنة کفایة کما في البرھان وغیرہ لاقترانھا بعدم الإنکار علی من لم یفعلہ من الصحابة (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ۳: ۴۳۰، ۴۳۱، ط: مکتبة زکریا دیوبند، ۶: ۴۱۳، ۴۱۴، ت: الفرفور، ط: دمشق)۔



قولہ: ”سنة کفایة“: نظیرھا إقامة التراویح بالجماعة، فإذا قام بھا البعض سقط الطلب عن الباقین فلم یأثموا بالمواظبة علی الترک بلا عذر، ولو کان سنة عین لأثموا بترک المسنة الموٴکدة إثما دون إثم ترک الواجب کما مر بیانہ في کتاب الطھارة (رد المحتار)۔



والمشھور عند مشایخنا أن یدخل المعتکف بعد العصر قبل غروب الشمس من الیوم العشرین من شھر رمضان لیدخل اللیلة الحادیة والعشرین فی الاعتکاف (رسائل الأرکان، ص: ۱۲۰)۔



قال الشافعي: إذا أراد أن یعتکف العشر الأواخردخل قبل الغروب، فإذا أہل ہلا ل شوال فقد أتم العشر، وہو قول أبی حنیفةوأصحابہ (الاستذکار،۱۰:۲۹۷، ط: دار قتیبة للطباعة والنشر، دمشق)۔



وکل من یرید أن یتم لہ اعتکاف العشرلزمہ أن یدخل المسجد معتکفاً قبیل غروب الشمس من العشرین وإلا لم یتم لہ العشر؛فإن اللیالی الماضیةلاحقة بالأیام التالیة (معارف السنن،۵:۵۱۷، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)۔



(۱۹): مردوں کے لیے گھروں میں اعتکاف کا حکم



مردوں کے لیے اعتکاف میں مسجد شرعی شرط ہے؛ لہٰذا گھر میں نماز کے لیے جو کمرہ خاص کیا گیا ہو، اُس میں مردوں کا اعتکاف درست نہیں؛ البتہ عورتوں کا اعتکاف گھر کی مسجد میں درست ہے۔



أخرج البیھقي عن ابن عباس رضي اللہ عنھما قال: إن أبغض الأمور إلی اللہ تعالی البدع وإن من البدع الاعتکاف في المساجد التي في الدور (فتح القدیر لابن الھمام، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ۲: ۱۰۹، ط: المطبعة الکبری الأمیریة، بولاق، مصر)۔



وأما شروطہ فمنھا:…مسجد الجماعة، فیصح فی کل مسجد لہ أذا ن وإقامة ھوالصحیح کذا فی الخلاصة (الفتاوی الھندیة،کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، ۱: ۲۱۱، ط: المطبعة الکبری الأمیریة، بولاق، مصر)۔



ھو لبث…ذکر ولو ممیزاً فی مسجد جماعة، ھو ما لہ إمام وموٴذن أدیت فیہ الخمس أو لا،… أو لبث امرأة في مسجد بیتھا… بنیة، فاللبث ھو الرکن، والکون فی المسجد والنیة من مسلم عاقل طاھر من جنابة وحیض ونفاس شرطان (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ۳: ۴۲۸-۴۳۰، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، ھذا کلہ لبیان الصحة (رد المحتار)۔



ولاتعتکف المرأة إلا في مسجد بیتھا ولا تعتکف في مسجد جماعة (کتاب الأصل، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ۲: ۱۸۴، ط: وزارة الأوقاف والشوٴون الإسلامیة، قطر)۔



(وللمرأة الاعتکاف في مسجد بیتھا وھو محل عینتہ) المرأة (للصلاة فیہ)،فإن لم تعین لھا محلاً لا یصح الاعتکاف فیہ، وھي ممنوعة عن حضور المساجد (مراقی الفلاح مع حاشیة الطحطاوی علیہ، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ص:۷۰۰، ط: دار الکتب العلمیة، بیروت)۔



(۲۰):اخیر عشرے کی طاق راتیں



رمضان کے اخیر عشرے کی طاق راتوں میں شب قدر کی تلاش میں، شب براء ت کی طرح اپنے اپنے گھروں میں رہ کر ہی انفرادی طور پر نوافل، تلاوت قرآن پاک، اذکار و اوراد اور دعاوٴں کا اہتمام کیا جائے، اس کے لیے گھروں سے باہر نکلنے ، مساجد میں جمع ہونے یا پاس پڑوس کے مکانات میں جانے سے پرہیز کیا جائے۔



(۲۱):کھانے، پینے وغیرہ ضروری اشیا کی خریداری میں حکومت کے قانون وضابطہ کی پابندی



رمضان المبارک میں لاک ڈاوٴن کے ایام میں کھانے، پینے وغیرہ کی ضروری اشیا کے لیے انتظامیہ کی طرف سے جو نظام تجویز کیا جائے، سب مسلمان اس کی پابندی کریں، یعنی: اگر موبائل فون کے ذریعے سامان منگانے کا آردڑ ہو تودکان داروں کو فون کرکے ہی سامان منگائیں، خود دکانوں پر نہ جائیں اور نہ بچوں کو بھیجیں۔ اور اگرکچھ وقت کے لیے دکانیں کھلنے کا نظم ہو تو متعینہ اوقات ہی میں سامان کے لیے گھروں سے نکلیں اور سامان خرید کر جلد از جلد گھر واپس ہوجائیں اور بلا ضرورت گھرسے باہر وقت نہ گذاریں۔



اور اگر لاک ڈاوٴن کی وجہ سے رمضان میں کھانے، پینے کی اشیا میں کچھ کمی رہے تو صبر وتحمل سے کام لیں، اس پر بھی إن شاء اللّٰہ اجر وثواب ملے گا۔



(۲۲): صدقہ فطر اور روزوں کے فدیے سے مسلمان مستحقین کی مدد



صدقہ فطر، عید الفطر کے دن صبح صادق کے وقت واجب ہوتا ہے، اُس سے پہلے اس کی ادائیگی واجب نہیں؛ لیکن اگر کوئی شخص رمضان میں یا رمضان سے پہلے ادا کرنا چاہے تو مفتی بہ قول کے مطابق یہ بھی جائز ہے۔ اسی طرح جن معذورین کے لیے روزے کی جگہ فدیہ دینا جائز ہے، وہ پورے مہینے کے روزوں کا فدیہ شروع رمضان میں بھی ادا کرسکتے ہیں؛ لہٰذا جو لوگ غریب ومستحق مسلمانوں کی مدد کرنا چاہتے ہوں، وہ صدقہ فطر سے رمضان سے پہلے بھی مدد کرسکتے ہیں اور روزوں کے فدیے سے رمضان شروع ہونے کے بعد۔



(وصح أداوٴھا إذا قدمہ علی یوم الفطر أو أخرہ ) اعتباراً بالزکاة، والسبب موجود إذ ھو الرأس (بشرط دخول رمضان في الأول)، أي: في مسألة التقدیم، ھو الصحیح، وبہ یفتی، جوھرة وبحر عن الظھیریة؛ لکن عامة المتون والشروح علی صحة التقدیم مطلقاً، وصححہ غیر واحد، ورجحہ في النھر، ونقل عن الولوالجیة أنہ ظاھر الروایة۔ قلت: فکان ھو المذھب (الدر المختار، کتاب الزکاة، باب صدقة الفطر، ۳:، ط: مکتبة زکریا دیوبند، ۶: ۱۶۵، ۱۶۶، ت: الفرفور، ط: دمشق)۔



قولہ: ”فکان ہو المذہب“: نقل في البحر اختلاف التصحیح، ثم قال: ”لکن تأید التقیید بدخول الشہر بأن الفتوی علیہ، فلیکن العمل علیہ“، وخالفہ في النہر بقولہ: ”واتباع الہدایة أولی“۔ قال في الشرنبلالیة: ”قلت: ”ویعضدہ أن العمل بما علیہ الشروح والمتون، وقد ذکر مثل تصحیح الہدایة في الکافي والتبیین وشروح الہدایة،وفي البرہان وابن کمال باشا، وفي البزازیة: ”الصحیح جواز التعجیل لسنین، رواہ الحسن عن الإمام“ اھ۔ وکذا في المحیط“ اھ، قلت: وحیث کان في المسألة قولان مصححان تخیر المفتي بالعمل بأیہما إلا إذا کان لأحدہما مرجح ککونہ ظاہر الروایة، أومشی علیہ أصحاب المتون أوالشروح أو أکثر المشایخ کما بسطناہ أول الکتاب، وقد اجتمعت ہذہ المرجحات ہنا للقول بالإطلاق فلا یعدل عنہ فافہم (رد المحتار).



(سئل ) إذا أراد الرجل أن یعجل صدقة الفطر قبل دخول رمضان، ھل یجوزلہ ذلک أم لا؟ ( أجاب ) نعم، یجوز لہ ذلک واللہ أعلم (فتاوی ابن نجیم مع الفتاوی الغیاثیة، کتاب الزکاة، ص: ۱۳)۔



(وللشیخ الفاني العاجز عن الصوم الفطر ویفدي) وجوباً ولو في أول الشھر الخ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، فصل في العوارض، ۳: ۴۱۰، ط: مکتبة زکریا دیوبند، ۶: ۳۶۶، ۳۶۷، ت: الفرفور، ط: دمشق)۔



قولہ: ”ولو في أول الشھر“ أي: یخیر بین دفعھا في أولہ أو آخرہ کما في البحر (رد المحتار)۔



(۲۳): رمضان میں حسب سابق، دینی مدارس کا بھی خیال رکھا جائے



 دینی مدارس، ہندوستان جیسے ملک میں ملت اسلامیہ کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کی جملہ ضروریات اور اخراجات کا مدار عام طور پر مسلمانوں کے چندے پر ہوتا ہے اور زیادہ تر چندہ ماہ رمضان میں ہوتا ہے؛ لہٰذا تمام اہل خیر حضرات سے درخواست ہے کہ ضرورت منداور پریشان حال لوگوں کا خیال رکھنے کے ساتھ دینی مدارس کا بھی خیال رکھیں اور اپنا مالی تعاون معتمد ذرائع سے از خود مدارس تک پہنچانے کی کوشش کریں یا اپنے پاس ہی محفوظ رکھیں اور جب مدارس کے سفرا پہنچیں تو اُنھیں دیدیں۔



(۲۴):ماں، باپ اور سرپرست حضرات، بچوں پر کنٹرول کریں



 رمضان کی راتوں میں بہت سے مسلم بچے محلہ میں گھوم پھر کر وقت گذاری کرتے ہیں، یہ ہرگز مناسب نہیں، گھر کے ذمہ دار حضرات کو چاہیے کہ بچوں پر کنٹرول کریں اور اُنھیں بلا ضرورت اور خلاف قانون گھر سے باہر نہ جانے دیں۔



(۲۵):رمضان میں لا یعنی اور فضول چیزوں میں وقت ضائع نہ کیا جائے



 رمضان کا مہینہ،زیادہ سے زیادہ عبادت خداوندی اور تقوی وپرہیزگاری کا مہینہ ہے؛ لہٰذا سب مسلمانوں کو چاہیے کہ گھروں میں رہ کر زیادہ سے زیادہ نوافل، تلاوت قرآن پاک، ذکر واذکار، دعا واستغفار کا اہتمام کریں اور چھوٹے، بڑے تمام گناہوں سے مکمل پرہیز کریں۔ اور کچھ وقت اہل خانہ کے ساتھ دینی واصلاحی معتبر کتابوں کی تعلیم کا بھی نظم بنائیں۔ اور لایعنی گفتگو، فضول تبصرے بازی اور موبائل وغیرہ میں رمضان کے قیمتی لمحات ہرگز ضائع نہ کریں۔



(۲۶): عید الفطر کی نماز



 عید الفطر کی نماز سے متعلق إن شاء اللّٰہ رمضان کے اخیر میں حسب حالات رہنمائی کی جائے گی۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات