معاشرت - اخلاق و آداب

Pakistan

سوال # 177749

مفتی صاحب ،اگر کوئی شخص کسی کا سلام پہنچا، تو اس کو کن الفاظ سے جواب دیا جائے؟

Published on: Apr 11, 2020

جواب # 177749

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:669-509/N=8/1441



اگر کوئی شخص، کسی دوسرے کا سلام لے کر آئے تو جواب دینے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ سلام لانے والے کو بھی جواب میں شامل کیا جائے اور یوں جواب دیا جائے: عَلَیْکَ وَعَلَیْہِ السَّلَامُ۔ اور اگر وَرَحْمَةُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہکا اضافہ کردیا جائے تو بہتر ہے۔ اور اگر سلام لانے والی کوئی محرم خاتون ہو تو عَلَیْکِکہا جائے۔ اور اگر سلام بھیجنے والی کوئی محرم خاتون ہو تو عَلَیْہِکی جگہعَلَیْہَا کہا جائے۔ اور اگر شروع میں واو کا اضافہ کردیا جائے تو اس میں بھی کچھ حرج نہیں، جیسا کہ عام سلام کے جواب میں بھی شروع میں واو لگایا جاتا ہے۔



عن غالب قال: إنا لجلوس بباب الحسن البصري إذ جاء رجل، فقال: حدثني أبي عن جدي، قال: بعثني أبي إلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فقال: ائتہ فأقرئہ السلام، قال: فأتیتہ، فقلت: أبي یقرئک السلام، فقال:”علیک وعلی أبیک السلام“، رواہ أبو داود (مشکاة المصابیح، کتاب الآداب، باب السلام، الفصل الثاني، ص: ۳۹۹، ط: المکتبة الأشرفیة، دیوبند)۔



وإذا أمر رجلاً أن یقرأ سلامہ علی فلان یجب علیہ ذلک کذا في الغیاثیة، ذکر محمد رحمہ اللہ تعالی في باب الجعائل من السیر حدیثا یدل علی أن من بلغ إنساناً سلاماً عن غائب کان علیہ أن یرد الجواب علی المبلغ أولاً ثم علی الغائب کذا في الذخیرة (الفتاوی الھندیة، کتاب الکراھیة، الباب السابع في السلام وتشمیت العاطس، ۵: ۳۲۶، ط: المطبعة الکبری الأمیریة، بولاق، مصر)۔ وانظر رد المحتار (کتاب الحظر والإباحة، باب الاستبراء وغیرہ، فصل في البیع وغیرہ، ۹: ۵۹۵، ط: مکتبة زکریا دیوبند)أیضاً۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات