معاشرت - اخلاق و آداب

Pakistan

سوال # 176418

جیسا کہ اوپر دیئے گئے عنوان سے واضح ہے ، میرا سوال اس صورت حال کے حوالے سے ہے جس میں اولاد کو اس بات کا جامع و مفصل ثبوت مل جائے کہ اس کے والد صاحب کے کسی نامحرم عورت کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ اس صورت حال میں ایک ذمہ دار اور فرمانبردار فرزند کے لیے قرآن و حدیث کی روشنی میں صحیح لائحہ عمل کیا ہو گا؟ ہمارے نبی نے والدین کے مقام کو بہت اونچا قرار دیا، چنانچہ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا اس صورت حال میں ایک بیٹے کا اپنے والد صاحب کو اس گناہ کی سخت سزا کے حوالے سے متنبہ کرنا ادب و احترام کی حدود سے تجاوَز ہو گا یا نہی، بڑی نوازش۔

Published on: Feb 9, 2020

جواب # 176418

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 527-510/M=06/1441



مذکورہ صورت حال میں اولاد کو چاہئے کہ باپ کا ادب و احترام ملحوظ رکھتے ہوئے حکمت، نرمی اور حسن انداز سے موقع بموقع ان کو گناہ کے عذاب سے ڈرانے وسمجھانے کا کام کرتے رہیں، کسی بزرگ سے اصلاحی تعلق کرادیں تاکہ ان کی صحبت و ہدایت سے باپ کی بری عادت چھوٹ جائے یا علماء کی دینی مجالس میں یا تبلیغی جماعت میں بھیجنے کی کوشش کریں، غرض یہ کہ ان سے قطع تعلق نہ کریں، نہ بے ادبی سے پیش آئیں، نہ ان کو برے حال پر چھوڑیں ان کے لئے دعا اور خیرخواہی میں لگے رہیں۔ (مستفاد محمودیہ: ۲۹/۱۱۲، ط: میرٹھ)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات