معاشرت - اخلاق و آداب

Pakistan

سوال # 175980

میرا ایک سوال ہے کہ اگر کوئی شخص بیت-الخلا میں کوئی دعا یا پھر دیگر کلمات پڑھے چاہے دل میں پڑھے یا زبان سے تو کیا وہ گناہگار ہوگا؟ کیونکہ بیت-الخلا ناپاک جگہ ہے ۔ برائے مہربانی شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع فراہم کریں۔ جزاک اللہ خیر

Published on: Jan 21, 2020

جواب # 175980

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:463-383/L=5/1441



بیت الخلاء چونکہ محل ِ نجس ہے؛ اس لیے اس میں زبان سے دعا نہیں پڑھنی چاہیے ،اگر کوئی پڑھنا چاہے تو دل دل میں پڑھ سکتا ہے؛ لیکن اگر کسی نے زبان سے پڑھ لیا تو اگرچہ گناہ نہیں ہے ؛تاہم ایسا کرنا مناسب نہیں۔



 قال الشرنبلالی: ویستحب أن لایتکلم بکلام مطلقاً أما کلام الناس فلکراہتہ حال الکشف وأما الدعاء فلأنہ فی مصب المستعمل ومحل الأقذار والأوحال، أقول: قد عد التسمیة من سنن الغسل فیشکل علی ما ذکرہ تأمل ․․․․ أقول أو المراد الکراہیة حال الکسف فقط کما أفادہ التعلیل السابق (درمختار مع الشامی ۲۹۱/۱، ط:زکریا)(قبل الاستنجاء وبعدہ) إلا حال انکشاف وفی محل نجاسة فیسمی بقلبہ(الدرالمختار)وفی ردا لمحتار :ولا دیحرک لسانہ تعظیما لإسم اللہ تعالیٰ. (درمختار مع الشامی ۲۲۷/۱، ط:زکریا)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات